حکومت تلنگانہ اسمبلی انتخابات تک کسی بھی انتخابات کے لیے تیار نہیں
حیدرآباد۔14۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے عوام کو آئندہ اسمبلی انتخابات کے انعقاد تک انتخابات کے موڈ میں رکھنے کی تیاری کی جا رہی ہے یا ریاستی حکومت تلنگانہ کو منگوڈ و میںہوئے ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد مزید انتخابات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے!ریاستی الیکشن کمیشن نے حکومت کو روانہ کردہ مکتوب میں ریاست کے دیہی علاقوں میں موجودادارہ جات مقامی کی زائد از 6ہزار مختلف نشستوں کے لئے ضمنی انتخابات کے انعقاد کے متعلق راہیں ہموار کرنے کے لئے اقدامات کی خواہش کی ہے جبکہ ریاستی حکومت آئندہ اسمبلی انتخابات تک کسی اور انتخابات کے انعقاد کے موڈ میں نہیں ہے جبکہ ادارہ جات مقامی کی مخلوعہ نشستوں پر زیر التواء انتخابات میں کافی تاخیر ہوچکی ہے اور کورونا وائر س وباء کے سبب ان انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں بنایاجاسکا تھا جو کہ اب کسی بھی وقت ممکن بنائے جاسکتے ہیں۔ ریاست کے دیہی علاقوں میں موجود 5354 وارڈ ممبرس ‘ 344 نائب سرپنچ ‘ 219 سرپنچ 92ایم پی ٹی سی‘ 6ایم پی پی‘ 6 نائب ایم پی پی ‘ 3 زیڈ پی ٹی سی ‘ 2ایم پی پی کے علاوہ ایک زیڈ پی وائس وائس چئیرمین کی نشست پر انتخابات ہونے ہیں لیکن ریاستی حکومت نہیں چاہتی کہ ان انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جائے کیونکہ تلنگانہ راشٹرسمیتی قائدین کا احسا س ہے کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں اگر ادارہ جات مقامی کی ان مخلوعہ نشستوں پر انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو عوام کے درمیان پہنچ کر رائے عامہ ہموار کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ادارہ جات مقامی کی زائد از 6000نشستوں پر انتخابات کو تلنگانہ راشٹر سمیتی اپنے لئے خطرہ محسوس کررہی ہے جبکہ ان نشستوں پر انتخابات کا انعقاد انتخابی قوانین کے اعتبار سے ناگزیر ہوچکا ہے تاہم کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت ان انتخابات کو ٹالنے کی حکمت عملی اختیار کرسکتی ہے۔ ادارہ جات مقامی کی ان مخلوعہ نشستوں پر انتخابات کا انعقاد 2023 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات پر اثر انداز ہوسکتا ہے کیونکہ ادارہ جات مقامی کی یہ تمام مخلوعہ نشستیں دیہی علاقوں میں ہیں اور ان پر کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں یا تائیدی امیدواروں کی کامیابی کی صورت میں ریاست کے سیاسی حالات تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ ریاست میں موجود اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر ان مخلوعہ ادارہ جات مقامی کی نشستوں پر انتخابات کے لئے نمائندگی کی جاسکتی ہے اور اگر حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے ان انتخابات کے انعقاد کے لئے راہ ہموار کروانے پر بھی غور کیا جار ہاہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا احساس ہے کہ ان 6000مخلوعہ نشستوں پر انتخابات تلنگانہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لئے سیمی فائنل کا کردار ادا کرسکتے ہیں اور تلنگانہ عوام کے درمیان انتخابات کا موڈ برقرار رہے گا۔م