ازبکستان میں کھانسی کی دوا سے اموات، نوئیڈا کی کمپنی نشانہ

   

دواساز کمپنی کے 3 عہدیدار گرفتار، نمونوں کی جانچ، تحقیقات کا آغاز
نئی دہلی: پولیس نے جمعرات کو نوئیڈا کی دوا ساز کمپنی کے 3 عہدیداروں کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ کمپنی کا مالک اور سیکرٹری مفرور ہیں۔ درحقیقت دسمبر کے مہینے میں ازبکستان کی حکومت نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستانی کھانسی کے شربت سے اس کے ملک میں 18 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ شربت نوئیڈا کی کمپنی میریون بائیوٹیک میں بنایا گیا تھا۔ کمپنی نے Doc-1 Max گولیاں اور سیرپ (ٹانک) زبکستان بھیجے تھے۔ یہاں سے نمونے لے کر جانچ کے لیے بھیجے گئے۔ نمونے کی ناکامی پر غازی آباد کے ڈرگ انسپکٹر نے نوئیڈا پولیس اسٹیشن فیز 3 میں مقدمہ درج کرایا۔ اس کے بعد پولیس نے یہ کارروائی کی۔ سیرپ (ٹانک) معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔کمپنی ازبکستان میں بچوں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستان میں بھی اس کمپنی کے خلاف تحقیقات شروع ہو گئیں۔ اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے غازی آباد کے ڈرگ انسپکٹر آشیش نے مقدمہ درج کرایا۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی کا تیار کردہ کھانسی کا سرپ (ٹانک) معیار پر پورا نہیں اترتا۔ جس کی وجہ سے اس کمپنی کے ڈائریکٹرس جیا جین، سچن جین، آپریشن ہیڈ توہین بھٹاچاریہ، مینوفیکچرنگ کیمسٹ اتل راول اور مول سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے توہین بھٹاچاریہ، اتل راوت اور مول سنگھ کو گرفتار کرلیا۔ جبکہ کمپنی کے مالکان جیا جین اور سچن جین مفرور ہیں۔ جن کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ سیرپ (ٹانک) مئی 2021 میں ازبکستان بھیجا گیا تھا۔