فلسطینیوں کے تاثرات
یروشلم : فلسطین میں بسنے والے شہریوں کو آئے روز اسرائیل کے انتقامی حربوں اور نسلی تطہیر کے ہتھکنڈوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ انہیں کبھی اپنی قیمتی زمینوں سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں اور کبھی گھر بار چھوڑنے پرمجبور کیا جاتا ہے۔ ظلم صرف یہیں تک ختم نہیں ہوتا بلکہ معصوم فلسطینی آئے روزاسرائیلی فوج کی بربریت کا نشانہ بن کر اپنی جانوں کینذرانے دینے پربھی مجبور ہیں۔ابو نجاح الکعابنہ ان 200 سے زائد لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیلی قابض فوج نے رام اللہ کے مشرق میں واقع ’عین سامیہ‘ کمیونٹی میں اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس اقدام کو فلسطینیوں اور اسرائیلی انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں نے “نسلی تطہیر” قرار دیا۔اگرچہ اسرائیل نے بدو کمیونٹی سے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا کام نہیں کیا۔ یہ علاقہ پانی کے چشموں سے مالا مال ہے اور بہار کیموسم میں اس کے چشمے زیادہ ابل پڑتے ہیں لیکن اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کیلیے “بے دخلی والے حالات” پیدا کر دیے جس کی وجہ سے ان کے پاس اس جگہ کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا جہاں وہ 40 سال سے مقیم تھے۔ گلہ بانی اور مال مویشی پالنے والوں کے لیے یہ بہترین جگہ ہے مگر اسرائیلی فوج نے وہاں بھی انہیں نہ رہنے دیا۔یہ کمیونٹی مغربی کنارے کے مشرقی ڈھلوان پر واقع ہے جو وادی اردن سامنے ہے اور اسے 250 بدو کمیونٹیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جنہیں اسرائیلی حکام “سکیورٹی اور آبادکاری کی وجوہات” کی بنا پر خالی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔برسوں سے یہودی آباد کار چرواہے چراگاہوں اور پانی کے چشموں کے کنٹرول کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔کمیونٹی کے مکینوں نے اسے خالی کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس میں رہنا “آباد کاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوج کے ان کے لیے اسے خالی کرنے کے احکامات کی وجہ سے ناقابل برداشت ہو گیا کیونکہ یہ علاقہ C میں واقع ہے۔”ان حملوں میں سے آخری حملہ کمیونٹی پر درجنوں آباد کاروں کا حملہ تھا۔ اس حملے میں مقامی فلسطینیوں کے درجنوں مویشی قبضے میں لے لیے گئے اور یہ دعویٰ کہا کہ اس کمیونٹی کے ایک رہائشی نے آباد کاروں کے مویشی چرا لیے تھے۔ حالانکہ یہ محض ایک سفید جھوٹ تھا۔اس سے قبل اسرائیلی عدالتوں کی جانب سے کمیونٹی کو خالی کرنے اور اس میں موجود واحد اسکول کو منہدم کرنے کے متعدد فیصلے ہوچکے ہیں تاہم یورپی یونین کے مالک کی طرف سے عطیہ کردہ اراضی پر تعمیر کرنے میں تعاون کیا تھا۔ابو نجاح نے “انڈیپینڈنٹ عربیہ” کو انٹرویو کے دوران شکایت کی کہ “اسرائیلی فوج کی حفاظت میں آباد کاروں کے بار بار حملوں کی وجہ سے کمیونٹی میں صورتحال اب قابل برداشت نہیں رہی۔”ان کا کہنا تھا کہ ان کے ٹین کے گھر کو فوج نے ایک سے زیادہ بار گرایا اور ہر بار اسے دوبارہ بنایا گیا۔ابو نجاح رام اللہ کے مشرق میں ابو الفلاح نامی گاؤں میں زمین کے ایک قطعے میں رہنے کے لیے منتقل ہو گیا۔ اسے امید ہے وہ زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرے گا جس میں اس کے مویشیوں کے لیے چراگاہیں اور پانی دستیاب ہو گا۔ابو نجاح پچھلی صدی کے اسی کی دہائی کے آغاز سے عین سامیہ میں درجنوں بدوؤں کے ساتھ رہتے تھے جب اسرائیل نے انہیں ایک اور کمیونٹی کو نکالنے پر مجبور کیا جس میں وہ مقیم تھے۔اس سے قبل وہ عین سامیہ کے قریب الطیبیہ گاؤں کے مشرق میں مقیم تھے۔