ایف آئی آر واپس لینے میں ٹال مٹول مرکزکی ’اعتماد شکنی ‘ہے :سی جے پی

,

   

نئی دہلی، 18 اگست (یو این آئی) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سورَو داس نے منگل کے روز مرکزی حکومت کی طرف سے ان ایف آئی آرز کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کرنے میں مبینہ ہچکچاہٹ پر سوال اٹھایا، جنہیں منسوخ کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک چلانے والے طلبہ کا بنیادی مسئلہ ان کے خلاف درج معاملات کو واپس لینا ہے اور اس معاملے میں حکومت کی بے حسی ’اعتماد شکنی‘ہے ۔ داس نے کہا کہ حکومت کو معاملے کو ٹالنے کے بجائے سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایف آئی آر کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کرنی چاہئیں۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے داس نے کہا کہ جب عدالت عظمیٰ حکومت سے منسوخ کی جانے والی ایف آئی آر کی فہرست مانگ رہی ہے ، توآپ اسے عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیوں نہیں کر رہے ؟ لیکن آپ سپریم کورٹ میں اس پر ہچکچاہٹ دکھا رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ تاخیرکرنے والے حربے نہ اپنائیے ۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے تقریباً 2,800 عادی مجرموں کی شناخت کی ہے ۔ اگر ان کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو وہ بالکل الگ معاملہ ہے ۔ طلبہ سے جڑا مسئلہ ان کے خلاف ایف آئی آر منسوخ کرنے کا ہے ۔