غزہ سٹی: غزہ میں اسرائیلی فلسطینی لڑائی اور کشیدگی 41 ویں روز بھی جاری رہی۔ عرب اور بین الاقوامی کوششوں کے باوجود جنگ بندی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے وزیر دفاع یوو گیلانٹ کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر کے پورے مغربی حصے کا کنٹرول مکمل کر لیا ہے فوج نے پورے شہر کو کنٹرول میں کرنے کا اگلا مرحلہ شروع کردیا ہے۔گیلانٹ نے کہاکہ شفا ہاسپٹل میں اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔ افواج درست اور فیصلہ کن طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ فضائی، بحری اور زمینی افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آپریشن کیا جارہا ہے۔ اسی طرح صہیونی فورسز بھرپور انٹیلی جنس معلومات سے بھی لیس ہوکر کارروائیاں کر رہی ہیں۔واضح رہے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے غزہ کی پٹی کے ساتھ رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز معطل ہوگئی ہیں۔ انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ غزہ کی پٹی ایک بار پھر مکمل طور پر مواصلاتی تعطل کا شکار ہوگئی ہے اور یہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔دوسری جانب فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی میں معمدانی ہاسپٹل جسے الاھلی عرب ہاسپٹل بھی کہتے ہیں پر دھاوا بول دیا ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے ہاسپٹل کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ہلال احمر نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس کی ایمبولینسز کا عملہ زخمیوں تک پہنچنے سے قاصر ہوگیا ہے۔فلسطینی ٹیلی وڑن نے اطلاع دی کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کل شام سے لیکر اب تک الاھلی عرب ہاسپٹل میں تقریباً 100 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔اطلاع کے مطابق حماس نے سدروت اور غزہ کے آس پاس کے قصبوں کی طرف راکٹ فائر کئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے غزہ بندرگاہ پر آپریشنل کنٹرول مکمل کر لیا ہے۔
اسرائیل تحمل سے کام لے ، یوروپی یونین کا زور
برسلز: غزہ کی پٹی کے اطرااف کی اسرائیلی بستیوں کے دورے کے دوران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے کیے گئے طوفان الاقصیٰ حملے کے ردعمل میں ’’اندھا دھند‘‘ انتقام کی پالیسی کے بجائے تحمل سے کام لے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہشت دوسرے خوف کا جواز نہیں بنتی۔بوریل نے اسرائیل کے دورے کے دوران کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کے ساتھ بات کی، جب کہ انہوں نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے سے متاثرہ بئیری کمیونٹی کا دورہ کیا۔
بوریل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے غصے کو سمجھتا ہوں، لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ غصے سے اندھے بہرے نہ ہوں۔میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے بہترین دوست آپ کو یہی بتائیں گے۔دورے کے دوران بوریل نے غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔گذشتہ اتوار کو بوریل نے اس بات کی تصدیق کی تھی کی یورپی یونین فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے لیے ایک سمندری راستہ بھی شامل ہے۔بوریل نے ایک بیان میں مزید کہا کہ یورپی یونین کو غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر گہری تشویش ہے۔بوریل نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں ہونے والی لڑائیوں سے ہاسپٹلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شہریوں اور طبی عملے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہاسپٹلوں کو ضروری طبی سامان فوری طور پر فراہم کیا جانا چاہیے اور جن مریضوں کو فوری دیکھ بھال کی ضرورت ہے انہیں بہ حفاظت باہر نکالا جانا چاہیے۔