اسلام نے شادی کو آسان بنایا ‘ ہم نے بیجا رسومات سے مشکلیں پیدا کرلیں

   


کارخانہ سکندرآباد میں 121 ویں دو بہ دو پروگرام کا انعقاد۔ مقامی عوام اور والدین میں جوش و خروش ۔ روزنامہ سیاست و ملت فنڈ کی ستائش

حیدرآباد 20 نومبر (سیاست نیوز) سیاست ملت فنڈ کے زیراہتمام اور انتظامی کمیٹی جامع مسجد کارخانہ کے تعاون سے درگاہ لالہ شاہ گراؤنڈ کارخانہ، سکندرآباد میں 121 واں مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کا شادیوں کیلئے (رشتے طے کرنے ) والدین اور سرپرستوں کا دو بہ دو ملاقات پروگرام منعقد ہوا جس میں کارخانہ سکندرآباد کے مختلف محلہ جات، شہر کے مضافاتی علاقوں و دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد سے والدین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور استفادہ کیا۔ کارخانہ سکندرآباد کا یہ علاقہ جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے یہ پہلا پروگرام منعقد ہوا جس کی وجہ سے رشتہ کے انتخاب میں والدین کے چہروں پر مسرت دیکھی گئی۔ اس دو بہ دو پروگرام میں سیاست اور ملت فنڈ کے ساتھ انتظامی کمیٹی جامع مسجد کارخانہ کی انتظامی کمیٹی کا تعاون شامل رہا جس کے ذمہ دار و اراکین گزشتہ دو ہفتوں سے پروگرام کی تیاری میں منہمک تھے جن میں قابل ذکر مرزا غوث احمد صدر جامع مسجد کارخانہ سکندرآباد، منظور احمد، سید خواجہ عثمان الدین، واحد خان، سید خواجہ افتخار غوری، مظفر خان، عارف حسین قادری، رشید خان، سید توفیق احمد، سید خواجہ فیض الدین احمد، محمد سلیم، محمد اکبر، محمد جاوید، سید اظہرالدین ، سید خواجہ عثمان الدین، محمد ابراہیم خان اور دوسرے شامل ہیں۔ جناب مرزا غوث احمد صدر جامع مسجد کارخانہ نے خیرمقدم کیا اور کہاکہ اخبار سیاست کے ذریعہ عرصہ دراز سے دو بہ دو ملاقات پروگرام کے متعلق پڑھا جاتا رہا یہاں تک کہ مشیرآباد کے پروگرام میں شریک ہوکر دیکھا گیا اور جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سے اس سلسلہ میں تفصیلات حاصل کی جس کو سننے کے بعد مسجد کمیٹی کے اراکین کو خواہش پیدا ہوئی کہ اس طرح کا پروگرام کارخانہ میں رکھا جائے۔ انھوں نے کہاکہ جامع مسجد کی کمیٹی کے تحت لڑکیوں اور خواتین کو ہنرمند بنانے کئی تربیتی پروگرام رکھے جارہے ہیں جس میں خواتین و طالبات کی کثیر تعداد شریک ہے۔ اس کے علاوہ انھیں دینی معلومات سے آشنا کرنے خواتین کا اجتماع بھی منعقد ہوا کرتا ہے تاکہ ان کی دینی تربیت بھی ہو۔ مولانا نظیر احمد خطیب جامع مسجد کارخانہ نے کہاکہ اسلام کے حیات آفرین پیغام میں شادی کو بڑا آسان بنایا ہے لیکن مسلمان غیروں کی تہذیب، طور طریق کو اپنا اس کو بڑا مشکل بناچکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اسلام نے چار نکاح کرنے کی مرد کو اجازت اس صورت میں دی ہے کہ وہ ان چاروں کے حقوق ادا کرے ۔ نکاح جو نبی کریم ﷺ کی سنت ہے یہ اُسی وقت ممکن ہوسکتی ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کے حقوق کو ادا کرنے کا مکلف ہو۔ آج بے جا رسومات، گھوڑے جوڑے کی بڑھتی مانگ کے پیش نظر استطاعت نہ رکھنے کے باوجود والدین اپنی لڑکیوں کے نکاح میں پہل نہیں کررہے ہیں۔ انھوں نے لڑکوں پر زور دیا کہ وہ نکاح کے وقت مہر ادا کرنے کی نیت کریں۔ مہر کی ادائیگی نہ کرنا دراصل غیروں کا طریقہ کار ہے جسے ہم نے اپنالیا ہے۔ اس لئے کہ اُن میں وردکشنا اور کٹنم جیسی رسم کا رواج ہے۔ آج بے جا رسومات، جہیز کی مانگ کی بناء نکاح مشکل بن چکا ہے جبکہ زنا آسان ہوچکا۔ انھوں نے مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی پر شدید تنقید کی۔ یہ اس لئے ہورہا ہے کہ ہم نے اسلامی طور طریق اور سنت رسول ﷺ سے اجتناب کیا اور دین داری کو ترجیح نہ دی، صرف دولت، حُسن و جمال لڑکیوں کے انتخاب میں اہمیت کا حامل ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہاکہ عورت دراصل ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اپنی نسل کی بہتری چاہتے ہو تو بہتر درسگاہ کا انتخاب کیا جانا چاہئے اس لئے لڑکی کے اخلاق و کردار کو اہمیت دیں۔ انھوں نے کہا کہ شادی سادگی سے کریں اور ولیمہ کا اہتمام کریں جب کہ ہم شادی میں لاکھوں روپئے خرچ کررہے ہیں۔ جناب منظور احمد نے کہاکہ سیاست اور ملت فنڈ کے تعاون سے کارخانہ لالہ شاہ گراؤنڈ میں یہ دو بہ دو پروگرام آئندہ کیلئے ایک کامیابی کا سنگ میل ہے۔ اس کے ذریعہ اُمید اس بات کی نظر آرہی ہے کہ مسجد کمیٹی آئندہ اس طرح کے فلاحی و تعمیری کام میں سرگرم ہوگی۔ اُنھوں نے شہر حیدرآباد الخیر سوسائٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے شہر کے مختلف محلہ جات میں لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے تعلیمی، فنی، کمپیوٹرس کی تربیت اور دوسرے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، روشنی ڈالی اور کہاکہ خدمت خلق کے ذریعہ ہم اپنے معاشرہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ جناب سید خواجہ عثمان اور جناب محمد ابراہیم خان نے دو بہ دو پروگرام پر خوشنودی کا اظہار کیا اور بتایا کہ شہر کا یہ 500 سالہ پرانا محلہ ہے جہاں پر برٹش ریجمنٹ رہا کرتی تھی۔ اس میدان پر جہاں دو بہ دو پروگرام منعقد ہوا ہے خچر اور اونٹوں کو برٹش دور میں باندھا جاتا تھا اور اسی میدان کے متصل حضرت لالہ شاہؒ کا مقبرہ بھی ہے جو تقریباً 300 سالہ قدیم ہے۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے دو بہ دو پروگرام میں تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے والدین کو رشتوں کے انتخاب کیلئے جو کاؤنٹرس بنائے گئے اُس پر روشنی ڈالی اور کہاکہ روزانہ پیر تا ہفتہ ملت فنڈ کے دفتر احاطہ روزنامہ سیاست (عابڈس) میں بھی والدین کیلئے رشتوں کو دیکھنے 10 بجے دن تا 4 بجے شام سہولت رکھی گئی ہے۔ محلہ کارخانہ میں اس دو بہ دو پروگرام پر انتظامی کمیٹی جامع مسجد کارخانہ نے جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست، جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر اور جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سے اظہار تشکر کیا۔ انتظامی کمیٹی کے ذمہ داروں نے دو بہ دو ملاقات پروگرام کے درمیان مختلف کاؤنٹرس کا معائنہ کیا جہاں پر تعلیمی اعتبار سے بڑے حسن و خوبی کے ساتھ والدین سے بات کرنے والنٹرس موجود تھے خوشنودی کا اظہار کیا اور کہاکہ بہت جلد ایک اور پروگرام رکھا جائے گا۔ آج کے اس دو بہ دو پروگرام میں تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے انجینئرنگ، میڈیسن، پوسٹ گریجویشن، گریجویشن، انٹر، ایس ایس سی، عالم و فاضل ، عقدثانی، معذورین اور دوسرے زمروں کیلئے کاؤنٹرس ترتیب دئے گئے تھے جس پر محترمہ لطیف النساء، ڈاکٹر دردانہ، لطیف النساء اسد، ثانیہ، اشرف، شاہانہ، آمنہ، یاسمین، کوثر جہاں، محمد احمد، صالح عبداللہ بن باحاذق، آسیہ، امتیاز ترنم خان، یاسمین اور دوسروں کو متعین کیا گیا تھا جنھوں نے والدین کی رہبری و رہنمائی کی ۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کی مدد سے بھی رشتوں کے انتخاب کی سہولت رکھی گئی اور اس کے علاوہ والدین کیلئے گھر بیٹھے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت رکھی گئی۔ اس طرح یہ پروگرام کا 5 بجے شام اختتام عمل میں آیا۔ جناب خالد محی الدین اسد کوآرڈی نیٹر پروگرام، محمد نصراللہ خان، ترنم خان، فرزانہ بیگم اور دوسروں نے والدین کی رہبری و رہنمائی کی۔ پرورگرام کو ملک اور بیرون ممالک سے نشر کرنے فیس بُک، انسٹا گرام، سیاست ٹی وی و دوسرے ذرائع کے ذریعہ دوسہولت رکھی گئی ہے جس میں کئی ہزار افراد نے اس پروگرام کو دیکھا اور اپنے تاثرات میں خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے پروگرام ملک بھر میں منعقد ہونے چاہئے تاکہ اس کے ذریعہ معاشرہ میں سدھار کے ساتھ نکاح آسان ہوسکے۔ حافظ اسرافیل رضا کی قرأت اور نعت شریف سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ جناب صالح بن عبداللہ باحاذق نے کارروائی چلائی ۔