سیکر (راجستھان)،3دسمبر(سیاست ڈاٹ کام )اسلام کی اشاعت،انسانی امن،اجتماعی عدل،آزادی رائے اور مساوات کی بنیاد پرہوئی ہے نہ کہ کسی جبر و استبداد کی وجہ سے ۔ یہ بات مولانا مفتی عطاء الرحمن قاسمی چیر مین شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نے راجستھان کے مدرسہ سلیمانیہ بشار ت العلوم سیکر کے سالانہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ یہ تاریخی سچائی ہے کہ اسلا م کی اشاعت،تیغ و تفنگ سے نہیں،انسانی امن، اجتماعی عدل، آزادی رائے اور مساوات کی بنیاد پر ہوئی ہے ، جہاں ایک ایسا صالح و نافع معاشرہ وجود میں آیا تھا،جس کے قیام کے پس منظر میں،نبی ذی وقار ﷺ نے شروع دور ہی میں اپنے بعض صحابہ سے فرمایا تھا کہ اگر تم زندہ رہے تو دیکھوگے کہ حیرہ (کوفہ)سے ایک محمل نشین عورت تن تنہا خانہ کعبہ آئیگی اور بیت اللہ کا طواف کریگی اور اس کو اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں ہو گا۔،عدی بن حاتم ؒ نے فرمایا تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا ہے اورحضور ﷺ نے ابتدائے دور میں کسری و قیصر کے مظالم سے لبریز نظام حکومت کے خاتمہ کی پیشنگوئی بھی کی تھی۔مولانا قاسمی نے کہاکہ آنحضور کی پیشنگوئی کے مطابق کسریت اور قیصریت کا خاتمہ ہو گیا تھا،جو اپنے وقت کی بڑی سپر پاور طاقتیں تھیں اور عدل و انصاف پر مبنی نظام امن قائم ہوا تھا،جس کی بنا پر نپولین کو کہنا پڑا تھا کہ مسلمانوں نے نصف صدی میں نصف دنیا پر حکومت کی ہے ،۔