ہائی کمان سے گرین سگنل، ضلع صدور، عاملہ اور محاذی تنظیموں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع
حیدرآباد۔/29 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں2023 اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کیلئے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ہائی کمان کی منظوری سے نئی الیکشن ٹیم کی تشکیل میں مصروف ہوچکے ہیں۔ پردیش کانگریس کی صدارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد 26 جون کو ایک سال مکمل ہوجائے گا اور ریونت ریڈی چاہتے ہیں کہ کم از کم انتخابات سے 6 ماہ قبل ان کی ٹیم تیار کرلی جائے تاکہ بہتر انداز میں انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور نے ریونت ریڈی کی تجویز کو منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد ریونت ریڈی پردیش کانگریس کی عاملہ اور ضلع صدور میں اہم تبدیلیاں کرسکتے ہیں۔ مانکیم ٹیگور اور ریونت ریڈی نے اس مسئلہ پر ہائی کمان کے قائدین سے مشاورت کی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی نے ٹی آر ایس سے مقابلہ کیلئے ریونت ریڈی کو فری ہینڈ دینے کی تائید کی ہے۔ اپنے دورہ تلنگانہ کے موقع پر راہول گاندھی نے مخالف پارٹی سرگرمیوں اور ٹی آر ایس کی تائید کے مسئلہ پر سینئر قائدین کو بھی کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی کے موقف کو مستحکم کیا تھا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ریونت ریڈی نے عاملہ کی مکمل تشکیل اور ضلع کانگریس صدور کے تقررات پر توجہ نہیں دی۔ فی الوقت تلنگانہ میں اتم کمار ریڈی کے دور میں مقرر کردہ ضلع صدور اور عاملہ کے عہدیدار برقرار ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی کو تنظیم میں 50 فیصد نمائندگی کے ساتھ نئی ٹیم تیار کی جائے گی۔ راجستھان میں کانگریس کے چنتن شیور میں قرارداد منظور کرتے ہوئے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کو 50 فیصد نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی پہلے مرحلہ میں ضلع کانگریس صدور کے انتخاب پر توجہ دیں گے اس کے بعد پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کے انچارجس کا تقرر کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل سکریٹریز، سکریٹریز اور ورکنگ کمیٹی ممبرس میں بھی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ پارٹی کی محاذی تنظیموں کی کارکردگی سے بھی ریونت ریڈی مطمئن نہیں ہیں۔ محاذی تنظیموں کے بعض سربراہوں نے ریونت ریڈی کے تقرر کے خلاف ہائی کمان کو مکتوب روانہ کیا تھا لہذا ریونت ریڈی محاذی تنظیموں پر اپنے وفادار قائدین کو نامزد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ر