ایک سال بعد گورنر کو خطاب کا موقع، 6 یا 7 فروری کو بجٹ کی پیشکشی کا امکان، سیکوریٹی انتظامات کو قطعیت
حیدرآباد۔2۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کا بجٹ اجلاس کل 3 فروری کو گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کے خطبہ سے شروع ہوگا۔ ایک سال کے بعد گورنر سوندرا راجن اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گی ۔ طئے شدہ شیڈول کے مطابق دوپہر 12.10 بجے گورنر کا مشترکہ سیشن سے خطاب ہوگا جس کے بعد اجلاس ملتوی کردیا جائے گا ۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اسمبلی اور کونسل کے ایام کار اور بجٹ پیشکشی کی تاریخ کو طئے کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ 6 یا 7 فروری کو وزیر فینانس ہریش راؤ ریاستی بجٹ برائے مالیاتی سال 2023-24 پیش کریں گے۔ بجٹ اجلاس سے قبل گورنر کے خطبہ پر جاری تعطل ہائیکورٹ کی مداخلت سے ختم ہوگیا۔ حکومت نے ابتداء میں گورنر کے خطبہ کے بغیر بجٹ اجلاس شروع کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا تھا۔ تاہم گورنر سوندرا راجن نے بجٹ کو منظوری دینے سے انکار کردیا ۔ راج بھون کی جانب سے گورنر کے خطبہ کے بارے میں حکومت سے استفسار کیا گیا ۔ بجٹ کی راج بھون سے منظوری کیلئے حکومت نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی لیکن چیف جسٹس اجل بھویاں کا کہنا تھا کہ گورنر کو ہائیکورٹ سے نوٹس کی اجرائی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کے باہر اس معاملہ کی یکسوئی کا مشورہ دیا جس کے بعد راج بھون اور حکومت کے وکلاء نے باہم مشاورت سے تنازعہ کی یکسوئی کی راہ ہموار کی جس کے تحت گورنر سوندرا راجن کے مشترکہ سیشن سے خطاب سے اتفاق کیا گیا۔ گزشتہ بجٹ سیشن کا آغاز گورنر کے خطبہ کے بغیر ہوا تھا اور گورنر نے بجٹ کی منظوری دی تھی۔ اس مرتبہ گورنر نے بجٹ کو منظوری نہیں دی جس کے باعث حکومت کو جھکنا پڑا۔ توقع ہے کہ بجٹ سیشن 14 فروری تک جاری رہے گا ۔ اجلاس کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اسمبلی کے اطراف امتناعی احکام نافذ کئے گئے اور ٹریفک تحدیدات عائد کی گئیں۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی اور صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ انتظامات کا جائزہ لیا۔ اسمبلی کے احاطہ اور بیرونی حصہ میں اضافی پولیس کو تعینات کیا گیا اور اپوزیشن کے کسی احتجاج کو روکنے احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گورنر کے خطبہ کی کاپی راج بھون کو روانہ کردی گئی اور اس پر تجسس برقرار ہے کہ آیا گورنر حکومت کی تیار تقریر پڑھیں گی یا اس میں کچھ تبدیلیاں کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کو خطبہ میں ترمیمات کا اختیار ہے ۔ مشترکہ سیشن سے گورنر کے خطاب کے فیصلہ سے راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی میں بظاہر کمی آئی ہے لیکن حکومت کو گورنر سے 7 بلز کی منظوری کا انتظار ہے جو گزشتہ اسمبلی اجلاس میں منظور کئے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کا جواب چیف منسٹر کی جانب سے دیا جاتا ہے اور جواب کے دوران کے سی آر کو گورنر کی ستائش کرنی پڑیگی ۔ ر