بہار میں جنگل راج ‘ لڑکے اور لڑکی کو ہجوم نے گھیر لیا ‘ لڑکی کے ساتھ زیادتی

,

   

لڑکے کو شدید مارپیٹ ۔ ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔ شام 7 بجے لڑکی کیوں محفوظ نہیں ہے ؟ ۔ حکومت بہار سے راہول گاندھی کا سوال
پٹنہ 21 ستمبر ( ایجنسیز ) بہار کے جموئی میں دسویں جماعت کے دو طلباء ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا اور ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے اور اسے نامناسب انداز میں اٹھاکر دوسری جگہ منتل کیا جا رہا ہے ۔ اس واقعہ کا ویڈیو آج صبح سے ہی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد عوامی برہمی پیدا ہوگئی تھی ۔ پولیس کی جانب سے اس سلسلہ میں تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ کئی سوشیل میڈیا اکاؤنٹس سے اس ویڈیو کو پیش کرتے ہوئے بہار پولیس کو ٹیگ کیا گیا تھا اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ جموئی کے سپرنٹنڈنٹ پولیس وشواجیت دیال نے قبل ازیں بتایا کہ ان دونوں لڑإے اور لڑکی سے رابطہ کیا گیا ہے اور ویڈیو کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے مشتبہ افراد کی شناخت کرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کرنے کا تیقن دیا ۔ پولیس کی جانب سے ان حالات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں یہ واقعہ پیش آیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کی شام 7 بجے پیش آیا تھا ۔ اس واقعہ پر سوشیل میڈیا پر شدید برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک نوجوان لڑکی ‘ ہاتھ جوڑے یہ بھیک مانگ رہی ہے کہ اسے جانے دیا جائے لیکن غنڈہ عناصر اس کے ساتھ دست درازی کر رہے ہیں اور اسے راستہ میں کھینچا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی نے سوال کیا کہ ان نوجوانوں کو ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی کلچر نہیں ہے بلکہ یہ مردانہ غلبہ کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ ایک مرد ایک لڑکی کے جسم پر کنٹرول کرسکتا ہے ۔ اس کی نقل و حرکت اور اس کے کپڑوں کا تعین کرسکتا ہے ۔ راہول گاندھی نے اس واقعہ کے ذمہ دار عناصر کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطابہ کیا ہے اور کہا کہ یہ قانون کم عمر بچوں کے خلاف استحصال روکنے کیلئے ہی بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بہار کو بھی یہ جواب دینے کی ضرورت ہے کہ ایک لڑکی شام 7 بجے سڑک پر محفوظ کیوں نہیں ہے ۔ بہار کے وزیر سنیل کمار نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقامی انتظامیہ مناسب کارروائی کرے گا ۔ انہوں نے جموئی کے ایس پی سے بات کی ہے اور جو کوئی اس کیلئے ذمہ دار ہں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ یہ واقعہ قابل مذمت ہے لیکن اس طرح کی صورتحال کو سارے بہار کی صورتحال سے تشبیہہ دینا مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بہار میں جنگل راج ہے ۔ پولیس جو کوئی ذمہ دار ہے اس کے خلاف کارروائی کرے گی ۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاستکا ہے کہ اس لڑکے اور لڑکی کو کچھ افراد نے گھیر لیا ہے اور ایک شخص لڑکے کا کالر پکڑے ہوئے ہے اور اسے لڑکی سے دور کر رہا ہے ۔ جب لڑکی نے بھاگنے کی کوشش کی تو ایک نقاب پوش نے اس کا تعاقب کیا اور اسے پیچھے سے پکڑ کر دور لے گیا ۔ اس موقع پر لڑکی کو چیختے ہوئے دیکھا گیا اور وہ ان غنڈوں سے بچنا چاہ رہی تھی ۔ اس دوران لڑکا غنڈوں سے بچ کر لڑکی کی مدد کیلئے پہونچا اور دونوں اپنی گاڑی کی سمت بھاگنے لگے تھے تاہم وہاں بھی غنڈے ان کا تعاقب کر رہے تھے ۔