حیدرآباد ۔ 12 (سیاست نیوز) اسپیکر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی جی پرساد کمار نے چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو سے حیدرآباد میں ملاقات کی۔ انہوں نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کی جانب سے یادداشت پیش کی اور تروملا تروپتی مندر کے درشن کے سلسلہ میں تلنگانہ ارکان اسمبلی کے سفارشی مکتوب کو قبول کرنے کی درخواست کی۔ تروپتی مندر میں درشن کے لئے ارکان اسمبلی کی جانب سے جاری کردہ سفارشی مکتوب کو سابق میں قبول کیا جاتا رہا ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کے ارکان اسمبلی کے سفارشی مکتوب تروملا تروپتی دیواستھانم کی جانب سے قبول نہیں کئے جارہے ہیں۔ اسپیکر نے چندرا بابو نائیڈو سے کہا کہ تلنگانہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ درشن کے لئے جاتے ہیں اور اگر انہیں ارکان اسمبلی کی سفارش پر ترجیح دی جائے تو بہتر رہے گا۔ ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل کی جانب سے جاری کردہ سفارشی مکتوب قبول کرنے کے لئے آندھرا پردیش حکومت کو فیصلہ کرنا چاہئے۔
اسپیکر اسمبلی کی چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات پر سیاسی حلقوں میں کئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں لیکن تروپتی مندر کے درشن کے مسئلہ پر اسپیکر نے نمائندگی کی جو کہ گزشتہ 10 برسوں سے زیر التواء مسئلہ ہے۔ سابق حکومت نے تلنگانہ کے عوامی نمائندوں کے سفارشی مکتوب قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 1