اسکولس کی کشادگی کے ایک ماہ بعد بھی طلبہ نئے یونیفارم سے محروم

   

سرکاری اسکولس کو کارپوریٹ طرز پر ترقی دینے کے کاغذی وعدے ، اسکولس کھلتے ہی انتظامیہ کی قلعی کھل گئی
حیدرآباد 14 جولائی ( سیاست نیوز ) : حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولس کی حالت بدلنے اور انہیں کارپوریٹ اسکولس سے بہتر بنانے کے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ تعلیمی سال کا آغاز ہوئے ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تا حال ہزاروں غریب طلبہ یونیفارم و مکمل نصابی کتابوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی تعلیمی پالیسی اور کارکردگی پر سوالاات پیدا ہوگئے ہیں ۔ حکومت نے تعلیمی سال کے آغاز پر بڑے پیمانے پر مہم چلائی تھی کہ سرکاری اسکولس کے طلبہ کو پرکشش بنانے اس سال سے یونیفارم کارنگ تبدیل کیا جائے گا ۔ اسکول کے پہلے ہی دن کتابوں ، یونیفارم اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ اس مہم کے تحت اساتذہ نے بھی گھر گھر جاکر ( بڈی باٹا مہم ) دوران والدین کو حکومت کی ان دلکش اسکیمات سے واقف کروایا اور انہیں بچوں کو سرکاری اسکولس میں داخل کرنے پر راضی کیا ۔ حکومت کے وعدوں اور سرکاری ٹیچرس کی محنت کا اثر یہ ہوا کہ اس سال سرکاری اسکولس کے داخلوں میں ایک لاکھ کا اضافہ درج کیا گیا لیکن اسکولس کھلتے ہی انتظامیہ کی قلعی کھل گئی ۔ اسکولس کی دوبارہ کشادگی کا ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے ۔ تاحال طلبہ کو نئے یونیفارم فراہم نہیں کئے گئے ۔ حد تو یہ ہے کہ درسی کتابیں بھی تقسیم نہیں کی گئی ہیں جس سے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔ جب اس سلسلے میں والدین نے اسکول انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے نمائندگی کی تو انہیں یونیفارم کیلئے اگست تک انتظار کا مشورہ دیا گیا ۔ والدین کا کہنا ہے کہ نیا یونیفارم نہ ملنے سے بچے پھٹے پرانے یونیفارم پہن کر اسکول جانے کیلئے مجبور ہیں ۔۔ 2/k/b