اسکول پیرنٹس اسوسی ایشن فیس ریگولیشن کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع

   

حیدرآباد ۔ 28 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد اسکول پیرنٹس اسوسی ایشن نے ، جس کی نمائندگی اس کے جوائنٹ سکریٹری کے وینکٹ سائی ناتھ کرتے ہیں ، تلنگانہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ درخواست داخل کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ ریاستی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ خانگی ، غیر امدادی اسکولس کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے لیے ریاست میں ایک ریگولیٹری میکانیزم قائم کریں ۔ مفاد عامہ کی درخواست میں یہ استدلال پیش کیا گیا کہ ایک ریگولیٹری میکانیزم کے نہ ہونے سے خانگی ، غیر امدادی اسکولس کو دستور کے آرٹیکل 14 اور 21A کی خلاف ورزی میں ان کے اختیار تمیزی کے ساتھ ٹیوشن فیس اور دیگر فیس کا تعین کرنے کا موقع مل رہا ہے جو وہ اپنی مرضی سے مقرر کررہے ہیں اور یہ تلنگانہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس ( ریگولیشن آف ایڈمیشنس اینڈ پروہیبیشن آف کیپٹشن فیس ) ایکٹ 1983 اور تلنگانہ ایجوکیشن ایکٹ 1982 کے قواعد کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ مفاد عامہ کی اس درخواست میں پرنسپل سکریٹری اسکول ایجوکیشن اور ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن کو اس سلسلہ میں ریگولیٹری میکانیزم بنانے کے لیے ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تاکہ اسکولی تعلیم کو کمرشیل بنانے سے روکا جاسکے ۔ درخواست گذار نے مزید کہا کہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں اس مقصد کے لیے اے پی اسکول ایجوکیشن ریگولیٹری اینڈ مانیٹرنگ کمیشن قائم کیا گیا ہے ۔ نیز اے پی حکومت نے جی او 53 مورخہ 24 اگست 2021 جاری کیا ہے جس میں خانگی غیر امدادی اسکولس میں نرسری تا X کلاس فیس اسٹرکچر مقرر کیا گیا ہے جو تین سال کے لیے ہے ۔ اس کے علاوہ خانگی غیر امدادی اسکولس کو درست وجوہات کے ساتھ فیس میں اضافہ کرنے کے لیے کمیشن سے رجوع ہونے کی آزادی دی گئی ہے ۔ درخواست گذار نے عدالت سے درخواست کی کہ مدعی علیہان کو ہدایت دی جائے کہ جی او آر ٹی نمبر 75 مورخہ 28 جون 2021 میں ترمیم کی جائے جس میں خانگی غیر امدادی اسکولس تعلیمی سال 2021-22 کے لیے کوویڈ 19 ریلیف کے طور پر 40 فیصد ٹیوشن فیس وصول کرسکتے ہیں اور حکومت کی جانب سے 2017 میں قائم کی گئی تروپتی راؤ کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے ۔۔