افغانستان نے میری تشویش میں اضافہ کردیا : گوٹیرس

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، افغانستان میں عورتوں اور بچیوں کے حقوق کی منّظم خلاف ورزی کے مقابل، خاموش نہیں رہے گی۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کی۔اجلاسوں کے بعدمنعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کے استحکام سے متعلق میرے اندیشوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ طالبان کی طرف سے افغان خواتین ملازمین پر پابندیوں کے باوجود اقوام متحدہ لاکھوں لاچار و محتاج افغانیوں تک مدد پہنچانے کے لئے افغانستان میں موجود رہے گی۔گوٹیرس نے کہا ہے کہ اگرچہ اقوام متحدہ افغانستان میں رہنا چاہتی ہے لیکن امدادی فنڈز میں کمی ہو رہی ہے اور رواں سال میں افغانستان کے لئے امداد کی یقین دہانیاں بھی سنجیدہ سطح پر کم ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے اور ملکی استحکام کے بارے میں میرے اندیشوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ افغان عوام کے مفادات کے لئے جامع موقف کی خاطر اجلاس کرنا جاری رکھے گی اور ملک میں عورتوں اور بچیوں کے حقوق کی منّظم خلاف ورزیوں کے مقابل خاموش نہیں رہے گی۔ افغانستان سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے اقوام متحدہ متعدد کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔