دل کا ارمان نکالیں گے وہ آکر لیکن
دل کا ارمان بھی نشتر ہے خدا خیر کرے
افغانستان کی صورتحال میں انتہائی غیر یقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور وہاں پرتشدد حملوں میں بھی اضافہ کی اطلاعات ہیں۔ امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج کو دستبردار کرنا شروع کیا ہے اس وقت سے جنوبی ایشیائی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ امریکی افواج کی دستبرداری کے بعد سارے علاقہ کا امن متاثر ہوجائے گا ۔ طالبان کو ایک بار پھر سر ابھارنے کا موقع مل جائے گا اور ان کی سرگرمیاں پڑوسی ممالک کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ امریکہ نے اپنی افواج کو افغانستان سے واپس طلب کرنا شروع کردیا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ابھی صورتحال پوری طرح سے واضح نہیںہو پائی ہے کہ امریکی افواج کی واپسی کے بعد کی صورتحال کیا کچھ ہوسکتی ہے ۔ ہندوستان کو بھی علاقہ کے حالات اور تبدیلیوں پر تشویش ہے ۔ پاکستان نے بھی اپنی سرحدات پر اضافی فوجی دستوں کو متعین کردیا ہے ۔ صدر افغانستان اشرف غنی بھی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دوسرے ذمہ داروں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی اس سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا ہے ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ افواج کی دستبرداری کے باوجود افغانستان حکومت کو انسانی اور سکیوریٹی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ امریکہ کا یہ ماننا ہے کہ صرف بات چیت اور سیاسی راستہ کے ذریعہ ہی افغانستان میں پائیدار اور دیرپا امن قائم کیا جاسکتا ہے تاہم اس کیلئے امریکہ نے کوئی حکمت عملی نہیں بتائی ہے ۔ امریکہ کی اس سلسلہ میں افغانستان حکومت سے بات چیت چل رہی ہے ۔ وائیٹ ہاوز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کی حکومتیں صورتحال کو قابو میں کرنے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں اور اسی سلسلہ میں مذاکرات بھی جاری ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ افغان حکومت اپنے ملک کی سکیوریٹی اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ذمہ دارانہ رول ادا کرے ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اس نے اپنی افواج وہاں بھیجی تھیںکیونکہ وہاں حملے ہو رہے تھے اور ہم چاہتے تھے کہ حملے کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہونچائیں۔
دوسری جانب ہندوستان نے بھی افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہندوستان کا کہنا ہے کہ کسی بیرونی مداخلت کے بغیر ملک میں حالات کو مستحکم بنانے کی سمت پیشرفت کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر خارجہ ہند ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے افغانستان کے امن مصالحت کار عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کرتے ہوئے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ انہوں نے امریکی افواج کی تیز رفتار دستبرداری کے پیش نظر وہاں ہونے والے پرتشدد حملوںپر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ہندوستان مسلسل افغان قائدین اور ذمہ داران سے رابطے میں ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں سے افغانستان کی صورتحال میں آ رہی مسلسل گراوٹ کے بعد ہندوستان نے وہاں کی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور ہندوستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حکومت اور وہاں کے عوام کو ایک پر امن ‘ جمہوری اور خوشحال مستقبل کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور سماج کے تمام طبقات کے مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ ہندوستان کا مسلمہ موقف ہے کہ تشدد کا بہرصورت خاتمہ ہونا چاہئے ۔ افغانستان کے امن و استحکام سے ہندوستان کے مفادات بھی وابستہ ہیں اور علاقہ کی سکیوریٹی کا بھی اس سے تعلق ہے ۔ ہندوستان نے افغانستان کی تعمیر جدید سرگرمیوں میں اہم رول ادا کیا ہے اور کئی ملین ڈالرس کی امداد بھی فراہم کی ہے ۔افغانستان کی صورتحال پر ہندوستان کی تشویش واجبی ہے کیونکہ وہاں کی صورتحال سے سارے علاقے کی سکیوریٹی پر اثر بھی پڑ سکتا ہے ۔
جہاں تک پاکستان کی بات ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ طالبان کو در پردہ پاکستان کی تائید و حمایت ملتی رہی ہے ۔ حالانکہ پاکستان کی جانب سے بھی افغانستان میں قیام امن کی دہائی دی جاتی ہے لیکن طالبان کی پشت پناہی کے بھی پاکستان پر الزامات ہیں۔ جہاں تک صورتحال کو بہتر بنانے کی بات ہے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں کوئی بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہئے ۔ افغانستان میں امن اور استحکام افغان عوام کی منتخبہ حکومت ہی کرسکتی ہے اور یہ افغان عوام کی ایما پر اور افغان حکومت کے کنٹرول والی صورتحال ہونی چاہئے تاکہ سارے علاقہ میں امن کیلئے کوئی خطرات برقرار نہ رہنے پائیں۔
مہاراشٹرا میں بارش کی تباہ کاریاں
مہاراشٹرا میں مسلسل آفات سماوی کا سلسلہ سا جاری ہے ۔ کورونا نے سب سے زیادہ تباہی اسی ریاست میں مچائی تھی ۔ سب سے زیادہ اموات اور انفیکشن اسی ریاست میںہوئے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے اب بھی مہاراشٹرا کے کچھ حصوں میں تحدیدات نافذ ہیں۔ تجارتی سرگرمیاں پوری طرح سے بحال نہیں ہو پائی ہیں۔ عوام کو اب بھی کورونا تحدیدات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ۔ حکومت کی جانب سے حالات کو ممکنہ حد تک سدھارنے کی ہر ممکن جدوجہد بھی کی جا رہی ہے ایسے میں اب شدید بارش سے سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ریاست کے عوام اور حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ اب تک 136 افراد اس بارش اور سیلاب کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ مرکزی حکومت کو مشکل کے اس وقت میں مہاراشٹرا کی دل کھول کر مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی اغراض و مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاست کے عوام کی مشکلات دور کرنے کیلئے سبھی گوشوں کو مدد کیلئے آگے آنا چاہئے اور زیادہ ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔
