اقامتی اسکولس کی حالت زار حکومت کی ناکامی کی عکاس : کویتا

   

ہر دس دن میں ایک طالبعلم کی موت افسوسناک ، نمس میںزیرعلاج طالبہ کی عیادت

نظام آباد 24/نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس کے کویتا نے ریاست تلنگانہ میں اقامتی اسکولس کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاستی کانگریس حکومت معصوم بچوں کی زندگیوں کے تحفظ میں بالکلیہ طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ کویتا نے کہا کہ ہر دس یوم میں ایک طالب علم کی موت جیسے افسوس ناک سانحات پیش آرہے ہیں تاہم حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اقامتی اسکولس کے تئیں ریاستی حکومت کا معاندانہ رویہ باعث افسوس ہے۔ کے کویتا نے کانگریس حکومت میں تاحال 42 طلبہ کی اموات کا حوالہ دیا اور متوفین کے افراد خاندان کو فی کس دس لاکھ روپئے ایکس گریشیا کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ کویتا نے آج کمرم بھیم آصف آباد ضلع کے اسکول میں سمیت غذا سے متاثرہ طالبہ شائلجا کی نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (نمس ) ہاسپٹل پہنچ کر عیادت کی۔ شائلجا کی حالت تشویشناک ہے۔ کویتا نے طالبہ کے افراد خاندان سے بات چیت کی اور انہیں تسلی دی۔ اقامتی اسکولس کے طلبہ کے بار بار سمیت غذا سے متاثر ہونے کے واقعات ریاستی حکومت کی غفلت اور لاپرواہی کا واضح ثبوت ہے۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آکر 11 ماہ گزرچکے ہیں۔ اس دوران ہر ماہ اوسطاً تین معصوم طلبہ کی قیمتی زندگیاں تلف ہورہی ہیں۔ تاحال 42 طلبہ کی اموات ہوچکی ہیں۔ اقامتی اسکولس کی یہ صورتحال حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس نے کہا کہ ریاست بھر میں تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ کویتا نے تجویز پیش کی کہ اگر چیف منسٹر روزانہ کم از کم 10 منٹ ہی تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تب معصوم بچوں کی زندگیوں کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ کویتا نے یاد دلایا کہ بی آر ایس دور حکومت میں تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ انہوں نے حال ہی میں ضلع نارائن پیٹ کے ایک اسکول میں سمیت غذا کے واقعہ کے باعث بچوں کے متاثر ہونے کا حوالہ دیا ۔ کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور تمام تعلیمی اداروں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے، موثر انتظامات روبہ عمل لائے جائیں۔ اسکولس میں طلبہ کو تغذیہ بخش غذا، معیاری تعلیم اور محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔