اگر ضرورت پیش آئی تو حملوں کی دوسری بڑی لہر شروع کرنے کیلئے امریکہ تیار : ٹرمپ
واشنگٹن۔4؍جنوری ( ایجنسیز )امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ’وینزویلا کو چلانے جا رہا ہے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں محفوظ، مناسب اور منصفانہ ِ اقتدار کی منتقلی ممکن نہ ہو سکے۔فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک انتہائی محفوظ فوجی قلعے پر کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اور وینزویلا کی ’شراکت داری‘ وینزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی۔ امریکہ میں مقیم وینزویلا کے شہری انتہائی خوش ہوں گے اور اب انہیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو امریکہ حملوں کی دوسری اور زیادہ بڑی لہر شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور واشنگٹن نے پہلے ہی یہ فرض کر لیا تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا آئیں گی، تیل کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کریں گی اور ملک کے لیے منافع کمانا شروع کریں گی۔قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’نکولس مادورو، یو ایس ایس آئیوو جیما پر۔‘ یو ایس ایس آییوو جیما وہی لڑاکا بحری جہاز ہے جس کے بارے میں ٹرمپ نے کچھ دیر پہلے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ وینزویلا کے صدر کو امریکہ لے جا رہا ہے۔تصویر میں مادورو نظر آ رہے ہیں، جن کی آنکھوں پر ماسک ہے، کانوں میں ہیڈفون اور وہ سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے ہوئے ہیں۔اسٹیورٹ ایک فوجی ایئرپورٹ ہے جو اورنج کاؤنٹی، نیویارک میں ہڈسن ویلی کے علاقے میں واقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مادورو اس وقت امریکی فوج کی تحویل میں ہیں اور لینڈنگ کے بعد انہیں وفاقی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔مادورو کو پیر کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ، سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
