قانون ساز اداروں میں نمائندگی، سلمان خورشید ، محمد علی شبیر اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد ۔9۔نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر مسلم اقلیت سے مکمل انصاف کیا جائے گا اور قانون ساز اداروں نے مسلم قائدین کو نمائندگی دی جائے گی۔ حیدرآباد میں میناریٹی ڈکلیریشن کی اجرائی کے موقع پر خطاب میں ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اقلیتوں کی بھلائی کے اقدامات کئے ہیں۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی کانگریس دور حکومت کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے گزشتہ 10 برسوں میں اقلیتی بہبود کو فراموش کردیا تھا ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں کابینہ اور راجیہ سبھا نے مسلمانوں کو موثر نمائندگی دی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں ، نوجوانوں اور خواتین کیلئے علحدہ ڈکلیریشن کے بعد میناریٹی ڈکلیریشن جاری کیا گیا جو کانگریس کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر ایس سی ایس ٹی سب پلان کی طرح اقلیتی سب پلان کے تحت سالانہ 4000 کروڑ مختص کئے جائیں گے اور بجٹ کی مکمل رقم خرچ نہ ہونے پر باقی رقم آئندہ سال کے بجٹ میں منتقل کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کا وعدہ کیا ہے اور کہا کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے بی آر ایس حکومت ذمہ دار ہے۔ صدر پردیش کانگریس نے مجلس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جوبلی ہلز میں کانگریس سے محمد اظہرالدین کو ٹکٹ کے اعلان کے بعد مجلس نے اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے تاکہ اظہرالدین کو شکست دی جائے۔ انہوں نے مجلسی قیادت سے سوال کیا کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ ہیں یا پھر خلاف ۔ انہوں نے کہا کہ کاما ریڈی میں محمد علی شبیرکو شکست دینے چیف منسٹر کے سی آر نے مقابلہ کا فیصلہ کیا اور مجلس ان کی تائید کر رہی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کانگریس کے مسلم قائدین کو ہرانے کی کوشش کرنے والی مجلس گوشہ محل میں راجہ سنگھ کے خلاف امیدوار کھڑا نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے بیان بازی کرنے والے راجہ سنگھ کو ہرانے مجلس نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تائید سے تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آئیگی ۔ ریونت ریڈی نے تلنگانہ اور ملک میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کی پیش قیاسی کی ہے۔ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کو ششکست دینے کانگریس کا برسر اقتدار آنا ضروری ہے۔ ملک کے عوام بی جے پی و مودی حکومت سے عاجز آچکے ہیں۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے کہا کہ وائی ایس آر حکومت نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے لیکن کے سی آر حکومت تحفظات کو بچانے میں غیر سنجیدہ ہے۔ سپریم کورٹ میں تحفظات کے مقدمہ کی موثر پیروی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ میناریٹی ڈکلیریشن ڈرافٹ کمیٹی کے کنوینر ظفر جاوید کے علاوہ اقلیتی قائدین خسرو پاشاہ بیابانی ، عثمان محمد خاں ، عثمان الہاجری اور دیگر اقلیتی قائدین اس موقع پر موجود تھے۔