اقلیتی اقامتی اسکولس کے عمارتوں کے کرایوں کی عدم ادائیگی

   

اسکولس کی کشادگی کے دن عمارتیں مقفل ، 14 ماہ کے کرایوں کی ادائیگی پر ہی عمارت حوالے کرنے کی ضد
حیدرآباد۔12۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ میں تعلیمی کیلنڈر کے مطابق آج اسکولوں کی کشادگی عمل میں لائی گئی لیکن تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولوں میں نصف سے زائد اسکولوں کو تعلیمی سال 2025-26 کے لئے کھولا نہیں جاسکا کیونکہ بیشتر اسکول جو کہ کرایہ کی عمارتوں میں چلائے جاتے ہیں ان میں نصف سے زائد جائیداد مالکین نے ٹمریز کی جانب سے کرایہ کی عدم ادائیگی کے سبب اسکول کی عمارتوں کو مقفل کرتے ہوئے اسکول کے عملہ کو عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا۔تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں گراوٹ اور کرایہ کی عمارتوں کے کرایہ کی عدم اجرائی کے سلسلہ میں ’’روزنامہ سیاست‘‘ نے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل ہی متوجہ کرواتے ہوئے مالکین جائیداد کے ارادوں کا انکشاف کیا تھا اور اس بات سے مطلع کیا تھا کہ اگر ٹمریز کے اسکولوں کے کرایہ ادا کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں مالکین جائیداد نے اپنی جائیدادوں کو مقفل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ٹمریز کے حکام کی جانب سے کسی بھی طرح کے اقدامات نہ کئے جانے کے نتیجہ میں آج ٹمریز کے اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے عملہ اورتعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اسکول کی کشادگی کے پہلے دن عمارت میں داخل ہونے نہیں دیا گیا اور بعض مقامات پر جہاں پرنسپل پہنچ چکے تھے انہیں عمارت سے باہر نکالتے ہوئے عمارتوں کو مقفل کرنے کے اقدامات کئے گئے اور عملہ کو بھی باہر نکال دیا گیا۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹمریز کے اسکولوں میں داخلہ کے لئے جو ہیلپ لائن جاری کی گئی ہے اس پر داخلوں کے حصول سے زیادہ موجودہ طلبہ اور اولیائے طلبہ کے فون کالس موصول ہورہے ہیں جو اپنے اسکول کو مقفل کئے جانے کے متعلق واقف کروارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹمریز کے صدر دفتر سے مسلسل آر ایل سی اور پرنسپل سے رابطہ قائم کرتے ہوئے اسکول کی عمارت کو مقفل کئے جانے کے متعلق تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں اور آر ایل سی اور پرنسپلس کو اس بات کی ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ مالکین جائیداد کو اس بات کے لئے آمادہ کریں کہ وہ تین ماہ کا کرایہ قبول کرتے ہوئے اسکولوں کی کشادگی کی راہ ہموار کریں لیکن مالکین جائیداد کا کہناہے کہ وہ گذشتہ 14ماہ کا کرایہ حاصل کرنے تک عمارتوں کو حوالہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ جن عمارتوں میں ٹمریز کے اسکول چلائے جا رہے ہیں ان اسکولوں کی کشادگی کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے فوری طور پر 14 ماہ کے کرایہ کی اجرائی کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتراضلاع میں موجود ٹمریز کے اسکولوں کی عمارتوں کو مقفل کئے جانے کی توثیق کے بعد ٹمریز کے عہدیداروں کی جانب سے مالکین جائیداد پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں جبری طور پر مقفل کی گئی عمارتوں کی کشادگی کے لئے مجبور کیا جانے لگا ہے لیکن مالکین جائیدا د کا کہناہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے 14ماہ کے کرایہ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے ٹمریز کے ساتھ عمارتوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں کیاگیا ہے اور نہ ہی معاہدوں میں توسیع کی گئی ہے اسی لئے انہیں اپنی عمارتوں کو حاصل کرنے کا مکمل استحقاق حاصل ہے۔ شہر حیدرآباد میں موجود کئی اسکولوں کے مالکین جائیداد نے اپنی جائیدادوں کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں مقفل کرتے ہوئے مالکین جائیداد کی انجمن کی جانب سے کئے گئے فیصلہ سے واقف کروایا اور کہا کہ انہیں 3 ماہ کا کرایہ ادا کرنے کی پیشکش کی جار ہی ہے لیکن وہ مکمل 14ماہ کا کرایہ حاصل ہونے تک عمارتوں پر ڈالے گئے قفل نہیں کھولیں گے بلکہ ان میں بیشتر جائیدادوں کے مالکین کا کہناہے کہ وہ اپنی جائیدادوں سے ٹمریز کے اسکولوں کا تخلیہ کروانے کے حق میں ہیں اور اس سلسلہ میں ٹمریز کے حکام کو نوٹس بھی جاری کی جاچکی ہے لیکن اس ان نوٹسوں کا جواب دینے کے بجائے ٹمریز کے اسکولوں کے قیام کے لئے اپنی جائیدادیں کرایہ پر دینے والے مالکین جائیداد کو ہراساں کرتے ہوئے ڈی ایم ڈبلیو اوز کے ذریعہ ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹمریز کے عہدیدار مالکین جائیداد کو کرایہ کی عدم ادائیگی سے نمٹنے میں ناکام ہونے کی بنیادی وجہ ٹمریز کے صدر دفتر میں جاری دفتری سیاست ہے جہاں خدمات انجام دینے والے ملازمین اپنی من مانی اور اپنے پسندیدہ امور کی انجام دہی میں مصروف ہونے کے سبب اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے اور کئی اضلاع میں مالکین جائیداد نے واضح کردیا ہے کہ وہ کرایہ کی وصولی اور معاہدہ کی ازسر نو تجدید معہ اضافی کرایہ کو ممکن بنائے جانے تک مقفل عمارتوںمیں اسکولوں کی کشادگی کی اجازت نہیں دیں گے ۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں کی عمارتوں کے مالکین جائیداد نے بتایا کہ دیگر سوسائیٹیز کے تحت چلائے جانے والے اسکولوں کے ذمہ داروں نے مالکین جائیداد سے مذاکرات کے ذریعہ کرایہ کی اجرائی کے مسئلہ کی یکسوئی کرلی ہے جبکہ ٹمریز کی جانب سے کرایہ کی اجرائی کے معاملہ میں محض جھوٹے دلاسے دیئے جاتے رہے ہیں۔3