مغربی بنگال کے پہلے مرحلہ کیلئے بھی تشہر کا اختتام، سوشل میڈیا پر کڑی نظر
چینائی ؍کولکاتہ۔ 21؍اپریل( ایجنسیز)مغربی بنگال میں پہلے مرحلہ کیلئے اور ٹاملناڈو میں ایک ہی مرحلہ میں 23 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ٹاملناڈو میں آج انتخابی تشہری کا اختتام عمل میں آیا۔ دونوں ریاستوں میں سوشل میڈیا پر بھی کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق مہم کے ختم ہوتے ہی اب کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کو جلسہ، ریلی یا عوامی خطاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ دونوں ریاستوں میں آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی قریبی نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی گمراہ کن یا اشتعال انگیز سرگرمی کو روکا جا سکے۔مغربی بنگال میں اس بار انتخابی عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 152 اسمبلی نشستوں پر 23اپریل کوووٹنگ ہوگی جس میں مجموعی طور پر 1478 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس مرحلے میں تقریباً تین کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد ہے جس کے پیش نظر سیاسی تجزیہ کار اس بار خواتین کے کردار کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ریزرویشن سے متعلق جاری مباحث کے تناظر میں۔دوسری جانب ٹاملناڈو میں تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں 23 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ اس ریاست میں کل 4023 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ تقریباً 5.73 کروڑ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ انتخابی ماحول میں اس بار ایک نئی سیاسی جماعت بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جو اداکار سے سیاست داں بننے والے وجئے کی قیادت میں میدان میں اتری ہے۔ کئی حلقوں میں ان کی جماعت کو عوامی حمایت ملنے کی اطلاعات ہیںجس کی وجہ سے ان کی کارکردگی پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔انتخابی مہم کے دوران دونوں ریاستوں میں بڑے سیاسی لیڈروں نے بھرپور سرگرمی دکھائی اور ووٹروں کو متاثر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تاہم اب مہم کے خاتمے کے بعد سارا زور ووٹنگ کے دن پر مرکوز ہوگیا ہے، جہاں انتظامیہ کی اصل آزمائش شفاف اور پرامن انتخابی عمل کو یقینی بنانا ہوگا۔