اقامتی اسکولوں و شادی مبارک کیلئے زائد بجٹ مختص، اسلامک سنٹر کی تعمیر کیلئے 10 ایکر اراضی مختص
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے بجٹ میں ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کیلئے بعض نئی اسکیمات کا اعلان کیا جبکہ اقلیتوں کیلئے ایک بھی نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے بجٹ تقریر میں اقلیتوں کی جاریہ اسکیمات کا حوالہ دیا ۔ سابق میں اقلیتوں سے متعلق وعدوں کو پھر ایک بار دہرایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت درج فہرست اقوام کے خطوط پر اقلیتوں کیلئے مختلف بھلائی اسکیمات روبہ عمل لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اقامتی اسکول قائم کئے گئے ۔ ان میں لڑکیوں کیلئے 50 فیصد اسکول مختص کئے گئے۔ تلنگانہ قیام کے وقت صرف 12 اقلیتی اقامتی اسکول معمولی سہولتوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد بہتر سہولتوں کے ساتھ اقامتی اسکولوں کی تعداد 204 کی گئی ۔ جاریہ سال اقامتی اسکولوں کیلئے 561 کروڑ مختص کئے گئے ۔ ایک لاکھ طلبہ ان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ نظامیہ میں 15 کروڑ سے عصری آڈیٹوریم تعمیر کیا گیا ۔ شہر کے کوکہ پیٹ علاقہ میں اسلامک کلچرل کنونشن سنٹر کی تعمیر کیلئے 10 ایکر اراضی مختص کی گئی ہے ۔ تعمیری کاموں کا عنقریب آغاز ہوگا۔ حکومت کی جانب سے 100 اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس امتحانات کی کوچنگ انکے پسندیدہ اداروں میں دی جارہی ہے ۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت 1684 اقلیتی طلبہ کیلئے 294 کروڑ منظور کئے گئے ۔ 54 اقامتی اسکولس کیلئے 1054 کروڑ کے مصارف سے عمارتوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ وزیر فینانس نے بتایا کہ حکومت رمضان اور کرسمس کو ریاستی تہواروں کے طور پر منا رہی ہے ۔ 7 لاکھ غریب مسلمانوں اور عیسائیوں میں نئے ملبوسات تقسیم کئے گئے ۔ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ اقلیتی طبقہ کو خصوصی مدد فراہم کی جارہی ہے۔ اقلیتی نوجوانوں کو خود روزگار کے تحت سبسیڈی پر مبنی قرضہ جات فراہم کئے جارہے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت 175924 افراد مستفید ہوئے۔ اسکیم پر 1341 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ سال 2018-2014 ء کے درمیان اقلیتی بہبود پر 812 کروڑ خرچ کئے گئے تھے جبکہ گزشتہ 6 برسوں میں 5712 کروڑ خرچ کئے گئے۔