اقوام متحدہ کا ایک بار پھر اسرائیل کو انتباہ

   

شام پر اسرائیلی بمباری روکی جائے اور گولان سے اسرائیلی فوج واپس بلائی جائے : انٹونیوگوٹیرس

نیویارک: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ شام میں اسرائیلی بمباری لازماً رکنی چاہیے۔ سکریٹری جنرل نے جمعرات کو اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ شام میں اسرائیلی بمباری مملکت کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اسی لازماً روکا جائے۔آٹھ دسمبر سے بشار حکومت کے شام سے اقتدار کے خاتمے کے بعد اسرائیل شام پر سینکڑوں بار بمباری کر چکا ہے اور شام کی فوجی تنصیبات اور اسلحے کے ذخیروں کو تباہ کیا ہے۔یہ اسرائیلی بمباری اتوار کی رات ہی شروع ہوگئی تھی۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جمعرات کے روز اس پر سخت انتباہ کیا ہے۔سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا ‘شام کی خودمختاری پوری طرح بحال ہونی چاہیئے اور اس کے خلاف جارحیت کے تمام اقدامات روک دینے چاہئے۔ اسرائیلی فوجوں کو واپس اپنے علاقے میں چلے جانا چاہیے اور گولان کی پہاڑیوں کے پاس سے قبضہ ختم کر دینا چاہیے۔ جیسا کہ 1973 کی عرب اسرائیل کی جنگ کے بعد سے اسرائیل کے فوجی اس علاقے میں گشت کر رہے ہیں۔’اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے محدود علاقے میں عارضی طور پر پوزیشنیں سنبھالی ہیں۔ تاہم ایسی کوئی علامت ظاہر نہیں کی ہے کہ اسرائیلی فوج کتنے عرصے میں یہاں سے واپس جائے گی۔سیکرٹری جنرل نے کہا ‘ مجھے یہ واضح کرنے دیجیے کہ اس علاقے میں کوئی فوج نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی توجہ شام میں ایک جامع سیاسی حل کیلئے کوششوں پر مرکوز ہے اور ایک بہت بڑے انسانی المیے دوچار ہوچکے شام کو اس جنگی کیفیت سے نکالا جائے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ شام کی تاریخ میں یہ ایک بڑا اہم موقع ہے۔ یہ ایک تاریخی امید ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیریقینی کی صورتحال بھی غیرمعمولی ہے۔ کچھ کھلاڑی اس معاملے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم بین الاقوامی برادری کی ذمہ داریاں شامیں عوام کے ساتھ ہیں۔ جنہوں نے پچھلے 13 برسوں کی خانہ جنگی میں بہت مصائب برداشت کیے ہیں۔سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر میکسیکو سے تعلق رکھنے والی قانون دان کارلا کوئنتانا کوبھی نامزد کیا ہے کہ وہ آزاد ادارے کی قیادت کرتے ہوئے لاپتہ شامی شہریوں کا پتا چلائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیم کو پوری طرح شام میں آزادی سے اپنا کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔کارلا کوئنتانا ایک معروف وکیل ہیں جو 2019 سے 2023 کے درمیان امریکہ میں انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے کام کرتی رہی ہیں تاکہ میکسیکو کے لاپتہ شہریوں کا پتہ چلا سکیں۔ہیگ میں قائم لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے قائم بین الاقومی ادارے کا کہنا ہے کہ اب تک اسے 66 ایسے افراد کے بارے میں تفصیلات ملی ہیں جو شام میں لاپتہ ہیں۔