اقوام متحدہ کو طاقت کے استعمال پر زور دینا چاہئے: اردغان

   

جنرل اسمبلی کو 1950 میں منظور کردہ قرارداد کے مطابق اسرائیل کیخلاف طاقت کا استعمال ناگزیر

انقرہ: ترک صدر طیب اردغان نے پیر کے روز کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ اور لبنان میں اسرائیل کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہے تو جنرل اسمبلی کو 1950 میں منظور کردہ قرارداد کے مطابق طاقت کے استعمال کی سفارش کرنی چاہیے۔نیٹو کے رکن ترکیہ نے حماس کے خلاف غزہ میں اسرائیل کے تباہ کن حملے اور لبنان میں حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اس نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارت روک دی ہے اور عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں شامل ہونے کی درخواست دی ہے۔ اسرائیل نے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔اردغان نے انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا، “اگر سلامتی کونسل ضروری عمل نہ کر سکے تو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو طاقت کے استعمال کی سفارش کرنے کے اختیار پر تیزی سے عملدرآمد کرنا چاہیے جیسے اس نے 1950کی یونائیٹنگ فار پیس قرارداد کے ساتھ کیا تھا۔”مذکورہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل کی پانچ مستقل ویٹو طاقتوں ۔ برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ ۔ کے درمیان اختلاف رائے ہو یعنی وہ بین الاقوامی امن کو برقرار رکھنے میں ناکام رہیں تو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اس میں قدم رکھ سکتی ہے۔سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کا واحد ادارہ ہے جو عموماً قانونی طور پر پابند فیصلے کر سکتا ہے مثلاً طاقت کے استعمال کی اجازت دینا اور پابندیاں عائد کرنا۔اردغان نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف زیادہ فعال مؤقف اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اقتصادی، سفارتی اور سیاسی اقدامات کریں تاکہ اس پر جنگ بندی کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔اردغان نے کہاکہ ہمارے خطے میں مسلمان سے لے کر یہودی تک ہر ایک کے امن کے لیے ہم عالمی برادری اور مسلم دنیا سے متحرک ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر اسرائیل کے حملے جلد بند نہ کیے گئے تو وہ دیگر مسلم ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا۔ یاد رہیکہ گزشتہ سال 7 اکٹوبر سے اسرائیل نے غزہ پر جن حملوں کا آغاز کیا تھا اس کی لپیٹ میں اب لبنان بھی آچکا ہے ۔