الہ آباد ہائی کورٹ نے لیو ان ریلیشن شپ کو ”ٹائم پاس“ قراردیا

,

   

عدالت نے مزید کہا کہ لیو ان ریلیشن شپ ’عارضی اور نازک‘ہوتا ہے۔
پریاگ راج۔مذکورہ الہ آباد ہائی کورٹ نے بین مذہبی لیو ان جوڑے کو پولیس تحفظ کی مانگ پر مشتمل درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے کہ لیوان ریلیشن شپ بغیر کسی ”استحکام یا خلوص“کے بجائے ”مذاق“ ہوتا ہے۔

یہ کہتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے کئی مواقعوں پر لیوان ریلیشن شپ کو درست قراردیا ہے‘ ہائی کورٹ نے یہ نوٹ کیاکہ درخواست گذار وں نو عمر ہیں اور یہ سوال کے لئے آیا یہ غور وفکر سے لیاگیافیصلہ تھا اس کے لئے ایک ساتھ گذارے ہوئے وقت کا جائزہ ناگزیر ہے۔

جسٹس راہول چترویدی اور محمد اظہر حسین ادریسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کہاکہ ”اس کم عمری 20-22سال میں دو ماہ کا وقت کے دوران ہم یہ توقع نہیں کرسکتے ہیں کہ مذکورہ جوڑا اس قسم کے عارضی تعلقات پر سنجیدگی سے غور کرسکیں گے۔جیسا کہ اوپر ذکر کیاگیا ہے۔یہ بغیر اخلاص کے مخالف جنس کے لئے زیادہ ترغیب کا باعث ہے“۔

عدالت نے مزید کہا کہ لیو ان ریلیشن شپ ’عارضی اور نازک‘ہوتا ہے۔بنچ نے کہاکہ ”زندگی گلابوں کا بستر نہیں ہے۔ہر جوڑے کو زندگی سخت او رمشکل حالات سے جانچ کرتی ہے۔ ہمارا تجربہ بتاتاہے‘ اس قسم کے تعلقات اکثر وقت گذاری‘ عارضی اورناز ک ہوتے ہیں اوراس طرح ہم تحقیقات کے مرحلے کے دوران درخواست گذار کو کسی قسم کا تحفظ دینے سے گریز کررہے ہیں“۔

مذکورہ جوڑے نے پولیس تحفظ فراہم کرنے اور ائی پی سی کی دفعہ 366کے تحت لڑکی کے خالہ کی جانب سے مذکورہ شخص کے خلاف دائر ایف ائی کو منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

خالہ نے الزام لگایاتھا کہ یہ ایک”روڈرومیو اور سڑک چھاپ“ تھا جس کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور وہ اس کی بھانجی زندگی برباد کردیگا۔

انہوں نے اس با ت کی بھی نشاندہی کی کہ اس شخص کا نام پہلے ہی یوپی گینگسٹر ایکٹ کی دفعات کے تحت ایک ایف ائی آر میں پہلے ہی سے موجود ہے۔ تاہم مذکورہ عورت نے عمر(20) کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اپنے مستقبل کافیصلہ لینے کااس کو پورا حق حاصل ہے۔

اس نے مزیداستدلال پیش کیاکہ اس معاملے میں مقدمہ اس کے والد نے درج نہیں کرایاہے

۔دونوں فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ دیاکہ درخواست گذاروں کی طرف سے پیش کردہ دلائل ایف ائی آر کو منسوخ کرنے کے لئے مناسب بنیاد نہیں ہیں۔اس میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ جب تک مذکورہ جوڑا شادی نہیں کرلیتا اوراپنے تعلقات کوکوئی نہیں دیدیتا ہے یا پھر ایک دوسرے کے تئیں خلوص نہیں دیکھاتا ہے وہ”اس قسم کے تعلقات پر کسی قسم کی رائے کااظہار کرنے سے گریزکرتا ہے“۔