اے آئی سی سی لیگل سیل کے صدرنشین کی آمد، ہائی کورٹ میں این ایس یو آئی اور کانگریس کی درخواستیں
حیدرآباد۔/21 مارچ، (سیاست نیوز) تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ہائی کورٹ میں مقدمہ کے سلسلہ میں نامور وکلاء سے مشاورت کی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی لیگل سیل کے صدرنشین ویویک دھنکا اور ہائی کورٹ کے دیگر وکلاء کے ساتھ ریونت ریڈی نے مشاورت کی۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے علاوہ سابق وہپ انیل کمار، این ایس یو آئی کے صدر ڈی وینکٹ اور یوتھ کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری انیل یادو تلنگانہ ہائی کورٹ پہنچے اور این ایس یو آئی کی درخواست کی سماعت کے موقع پر موجود تھے۔ کانگریس پارٹی نے علحدہ طور پر درخواست دائر کی ہے۔ مقدمہ کی موثر پیروی کیلئے اے آئی سی سی لیگل سیل کے صدرنشین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ویویک دھنکا نے ہائی کورٹ میں مدھیہ پردیش ویاپم اسکام کے بارے میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کی نقل حوالے کی۔انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں پہلی ایف آئی آر 11 مارچ کو درج کی گئی اور کمیشن نے اسسٹنٹ انجینئر کے علاوہ گروپI اور دیگر امتحانات کو منسوخ کردیا ہے۔ انہوں نے افشاء معاملہ کی جامع تحقیقات کی ضرورت ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی نے اسکام کیلئے محض دو ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ معاملہ کی تحقیقات سے قبل صرف دو افراد تک افشاء کو محدود کرنا باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات پر عوام کو بھروسہ نہیں ہے لہذا سی بی آئی یا پھر آزادانہ تحقیقاتی ایجنسی کو جانچ حوالے کی جائے۔ انہوں نے کمیشن کے رول پر بھی شبہات کا اظہار کیا اورکہا کہ صرف ایک منڈل سے 20 امیدواروں کو زائد نشانات حاصل ہونا باعث حیرت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق میں سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے ویاپم اسکام کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کی تھی۔ر