امریکہ میں قید عافیہ صدیقی کی 20 سال بعد بہن سے ملاقات

   

نیویارک : عافیہ صدیقی کی بیس سال بعد پہلی بار اُن کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ملاقات ہو ئی ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں واقع کارسویل فیڈرل میڈیکل سینٹرمیں قید عافیہ صدیقی نے اپنی بہن سے ملاقات کی۔دو بہنیں، منگل کی دوپہر جب ملیں تو دونوں کے درمیان شیشہ تھا، ڈھائی گھنٹے کی اس ملاقات میں پہلا ایک گھنٹہ سر پر اسکارف پہنے، جیل کے خاکی لباس میں ملبوس عافیہ صدیقی نے بتایا ان پر کیا گزری اور پھر باقی کے وقت فوزیہ ان کو ان کے بچوں کے بارے میں بتاتی رہیں۔فوزیہ صدیقی کے مطابق، ان بیس سالوں کے دوران بہت کچھ بدل گیا۔ عافیہ صدیقی کی والدہ وفات پا چکی ہیں، بیٹی ڈاکٹر بن گئی ہے اور وہ بیٹا جو چھ ماہ کی عمر میں ان سے الگ ہوا تھا، اب نوجوان ہے۔ لیکن ملاقات کے دوران فوزیہ کو عافیہ کو ان کے بچوں کی تصویریں دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو وہ بہن کو دکھانے کیلئے پاکستان سے اپنے ساتھ لائی تھیں۔فوزیہ کی عافیہ سے ملاقات کا احوال سینیٹر مشتاق نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا، کیونکہ فوزیہ ملاقات کے بعد بہت جذباتی تھیں۔عافیہ صدیقی سے ملاقات کی کوششوں میں ان کی بہن کے ساتھ برٹش سول رائٹس لائیر کلائیو اسٹیفرڈ اسمتھ اور پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان شریک رہے ہیں۔ فوزیہ صدیقی، سینیٹر مشتاق اور ان کی رہائی کی کوشش کرنے والے وکیل کی عافیہ سے ملاقاتیں چہارشنبہ اور جمعہ کو بھی متوقع ہیں، جن میں عافیہ کی رہائی کے لئے مزید ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔سول رائٹس کے وکیل کلائیو اسٹیفر اسمتھ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق، عافیہ نے اپنی بہن کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان، اپنی والدہ، والد اور بچوں کو ہروقت یاد کرتی رہتی ہیں۔ عافیہ کی اپنے بچوں سے متعلق ہر بات 2003 کے اس وقت میں منجمد ہے، جب انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔کلائیو اسٹیفر اسمتھ کے مطابق یہ ایک بہت غمزدہ کرنے والا لمحہ تھا۔