امریکی قانون اور عدلیہ میں نسل پرستی: انسانی حقوق تنظیم

   

نئی دہلی: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’سینٹر فار ڈیموکریسی، پلورلزم اینڈ ہیومن رائٹس ‘ (سی ڈی پی ایچ آر) نے کہا کہ جہاں امریکہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرتا ہے ، وہیں دوسری طرف نسل پرستی، مذہبی تعصب اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے واقعات عام ہیں۔ چہارشنبہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ہیومن رائٹس کی صدر پریرنا ملہوترا نے رپورٹس جاری کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے ہم نے دیکھا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے کئی مفاہمت ناموں اور معاہدوں کو منظور کیا ہے ۔ ہم نے پایا کہ ان میں سے زیادہ تر معاہدوں کی وہاں خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ کئی مہینوں کے مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ کے نظامِ قانون، عدلیہ اور سیاست میں نسل پرستی گہری جڑ تک گھسی ہوئی ہے ۔ تمام شہریوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہے ۔ ڈھائی سو سال پہلے آزاد ہونے والے امریکہ میں آزادی اور برابری کی باتیں ہوتی ہیں لیکن امریکی سیاہ فاموں کو آزادی کب ملے گی؟ امریکی آئین کی 3/4 شق کا حوالہ دیتے ہوئے ملہوترا نے کہا کہ آج بھی ملک کے آئین میں سیاہ فاموں اور مقامی امریکیوں کے خلاف امتیازی قوانین موجود ہیں۔