نئی دہلی 12 اگست (یو این آئی) دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر آگ لگنے کے واقعے کے وقت نقد رقم ملنے سے متعلق معاملے کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی تین رکنی انکوائری کمیٹی نے ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو درست قرار دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اروند کمار کی صدارت میں ججز (انکوائری) ایکٹ 1968 کے تحت تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ بدھ کے روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی۔ کمیٹی کے دو دیگر ارکان بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شری چندر شیکھر اور کرناٹک ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ بی وی آچاریہ ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ رپورٹ دونوں ایوانوں میں بالترتیب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرلز نے پیش کیں ۔ یہ انکوائری رپورٹ 14 مارچ 2025 کی رات جسٹس ورما کی تغلق کریسنٹ، دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ میں آگ لگنے کے واقعے کے دوران 500 روپے کے جلے ہوئے ، آدھے جلے اور گیلے نوٹوں کی گڈی ملنے سے متعلق ہے ۔ انکوائری کمیٹی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے بے حساب نقد رقم ملی جس کے ذریعہ کا وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے ۔i/y
کمیٹی نے پایا کہ انہوں نے ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور جانچ کے دوران سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دیے ۔ اس واقعے کی جانچ شروع ہونے کے بعد انہیں اپریل میں الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 200 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے گزشتہ سال مانسون سیشن میں لوک سبھا اسپیکر کو تجویز پیش کی تھی۔ اس کے بعد اسپیکر نے معاملے کی جانچ کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ جسٹس ورما نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا تھا کہ جس اسٹور روم میں آگ لگی اس کا استعمال فرنیچر، بوتلیں، کراکری وغیرہ جیسی بیکار اشیاء کے لیے کیا جا رہا تھا اور یہ مرکزی رہائش گاہ سے منسلک نہیں تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ واقعے کے وقت رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے اور آگ بجھنے کے بعد ان کے خاندان یا اسٹاف کے کسی رکن کی طرف سے کوئی نقد رقم یا کرنسی نوٹ نہیں دیکھے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے یا ان کے خاندان کے کسی رکن کی طرف سے وہاں کوئی نقد رقم نہیں رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کو دکھائے گئے مواد سے سازش کا خدشہ پیدا ہوتا ہے ۔ بعد میں اس تنازع کے طول پکڑنے پر جسٹس ورما نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔