امیت شاہ کو وزارت داخلہ، سمرتی ایرانی اور روی شنکر پرساد کو اہم ذمہ داریاں متوقع

نئی حکومت کی تشکیل پر تمام نظریں مرکوز، ارون جیٹلی اور سشما سوراج کی دوبارہ شمولیت غیر یقینی

نئی دہلی 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اپنی دوسری میعاد کے لئے ایک شاندار فتح کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کرچکی ہے۔ اس پارٹی کے صدر امیت شاہ کے بشمول کئی نئے چہروں کو نئی کابینہ میں شامل کئے جانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان تمام نظریں نئی حکومت کے قیام پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ اکثر قائدین کا خیال ہے کہ مودی کابینہ میں امیت شاہ شامل ہوں گے اور اُنھیں داخلہ، فینانس، اُمور خارجہ اور دفاع میں سے کوئی ایک کلیدی وزارت دی جائے گی۔ سشما سوراج اور ارون جیٹلی کو چونکہ صحت کے مسائل لاحق ہیں چنانچہ اس موضوع پر چہ میگوئیاں کی جانے لگی ہیں کہ آیا وہ نئی حکومت کا حصہ ہوں گے یا نہیں؟ جیٹلی نے 2014 ء میں امرتسر سے لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کرتے ہوئے شکست کا سامنا کیا تھا اور وہ راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ سشما سوراج نے 2014 ء میں مدھیہ پردیش کے حلقہ ودیشا سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن صحت کی بناء پر اس مرتبہ انتخابی لڑائی سے دور رہنے کو ترجیح دی تھی۔ ان دونوں قائدین نے اس مسئلہ پر کبھی کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا تھا کہ آیا وہ نئی حکومت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ نتائج کے اعلان کے دوران امیت شاہ نے بھی حکومت میں اپنی شمولیت کے بارے میں کئے جانے والے سوالات کو یہ کہتے ہوئے ٹال دیا تھا کہ یہ ان کی پارٹی اور وزیراعظم کا اختیار تمیزی ہے۔

وزیر دفاع نرملا سیتارامن کا نئی حکومت میں بھی کلیدی رول متوقع ہے۔ سمرتی ایرانی جو کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو امیٹھی میں شکست فاش کے صدمے سے دوچار کی ہیں اور توقع ہے کہ پارٹی اُنھیں بطور انعام کوئی اہم ذمہ داری دیگی۔ سبکدوش شدنی کابینہ کے کئی سینئر چہرے بشمول راج ناتھ سنگھ، نتن گڈکری، روی شنکر پرساد، پیوش گوئل، نریندر ٹومر، پرکاش جاؤڈیکر، گری راج سنگھ کی نئی کابینہ میں بھی برقراری یقینی ہے۔ حلیفوں میں شیوسینا اور جے ڈی (یو) کو کابینی نشستوں کی فراہمی متوقع ہے کیوں کہ ان دونوں نے بالترتیب 18 اور 16 نشستوں پر جیت کے ساتھ بڑی حد تک بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ تلنگانہ، اڈیشہ اور مغربی بنگال سے منتخب نئے چہروں کو بھی کابینہ میں مناسب جگہ دی جائے گی کیوں کہ ان ریاستوں میں بی جے پی پہلی مرتبہ اپنا طاقتور وجود بنائی ہے۔ بی جے پی کے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس ہفتہ کو منعقد ہوگا جس میں وہ نریندر مودی کو اپنا لیڈر منتخب کرلیں گے جس کے بعد وہ (مودی) صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کرتے ہوئے نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کریں گے۔ 17 ویں لوک سبھا کی 3 جون سے قبل تشکیل ضروری ہے۔ نئے ایوان کی تشکیل کا عمل اُس وقت شروع ہوگا جب تینوں الیکشن کمشنرس، آئندہ چند دن کے دوران صدرجمہوریہ سے ملاقات کرتے ہوئے اُنھیں نومنتخب ارکان کی فہرست پیش کریں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT