انجینئرنگ کی تعلیم کیلئے طلبہ کا دوسری ریاستوں کا رخ

   

معیاری تعلیم ، کیمپس پلیسمنٹ کیلئے ہر سال 25 فیصد طلبہ کا مختلف ریاستوں کا انتخاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : طلبہ کی ایک بڑی تعداد معیاری تعلیم ، کیمپس پلیسمنٹ اور بہتر کیرئیر وغیرہ کی تلاش میں انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے دوسری ریاستوں کا رخ کررہے ہیں ۔ اس طرح ہر سال جملہ طلبہ میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ طلبہ اپنی ریاستوں کو چھوڑ کر دوسری ریاستوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ بی ٹیک تعلیم کے حصول کے لیے دوسری ریاستوں کا رخ کرنے والے طلبہ کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔ محکمہ مرکزی تعلیم کے جاری کردہ رپورٹ سے اس کا علم ہوا ہے ۔ ملک بھر میں سال 2022-23 میں 1374 انجینئرنگ کالجس میں مرکز کے ذرائع سے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 25.72 فیصد طلبہ دوسری ریاستوں سے ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ سال 2018-19 میں یہ تعداد 20.60 فیصد تھی سال 2019-20 میں 21.47 فیصد ہوگئی ۔ اعداد و شمار کے مطابق کورونا بحران کے پیش نظر دو سال تک اس کو شمار نہیں کیا گیا ۔ بی ٹیک کے بعد ایم ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ ، کینڈا جیسے ممالک کا دورہ کرنے والوں میں ہمارے طلبہ کی اکثریت ہے ۔ معیاری تعلیم ، پلیسمنٹ کے مواقعوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے مختلف ریاستوں کا رخ کررہے ہیں ۔ مرکزی حکومت کے مالی امداد سے چلائے جانے والے شہرت یافتہ ادارے آئی آئی ٹیز ، این آئی ٹیز ، ٹریپل آئی ٹیز کے علاوہ ڈیمڈ اور خانگی یونیورسٹیز کے علاوہ دیگر کالجس کی بھی تلاش کررہے ہیں ۔۔ 2