انحراف کے مسئلہ پر جگن سے سبق لینے کے سی آر کو مشورہ

   

حیدرآباد میں سی پی آئی کا نیم برہنہ احتجاج، قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا اور دیگر قائدین کی گرفتاری
حیدرآباد۔/14 جون، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری کے نارائنا نے چیف منسٹر کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ انحراف کے مسئلہ پر چیف منسٹر آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی سے سبق حاصل کریں۔ کانگریس ارکان اسمبلی کے انحراف کے خلاف سی پی آئی نے آج جی ایچ ایم سی آفس سے امبیڈکر مجسمہ تک نیم برہنہ احتجاجی جلوس منظم کیا تھا جس کی قیادت ڈاکٹر نارائنا نے کی۔ پولیس نے احتجاجیوں کو حراست میں لے لیا جو حکومت کے غیر جمہوری اقدامات اور کے سی آر کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ اور دیگر قائدین اس احتجاج میں شریک رہے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ تلنگانہ ارکان اسمبلی کی خریدی کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیئے۔ ہزاروں رائے دہندوں نے امیدواروں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں رکن اسمبلی منتخب کیا لیکن کانگریس سے منتخب ہوکر ارکان نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی جو باعث شرم ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ جو شخص عوام کو دھوکہ دے سکتا ہے وہ ارکان خاندان کو فروخت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ جگن موہن ریڈی عمر میں کے سی آر سے چھوٹے ہیں لیکن انہوں نے انحراف کے مسئلہ پر واضح موقف اختیار کیا ہے۔ کے سی آر کو چاہیئے کہ ان سے سبق لیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی ، امیت شاہ اور کے سی آر دیگر جماعتوں سے انحراف کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا رول اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اپوزیشن کے بغیر جمہوریت کمزور ہوجائے گی۔ کے سی آر اسمبلی میں اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسمبلی میں حکومت کی بے قاعدگیوں کے خلاف آواز ختم کرنے کیلئے کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو خریدا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی ممتابنرجی حکومت کے خلاف سازش کررہی ہے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جگن موہن ریڈی نے واضح کردیا کہ دوسری پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کو وائی ایس آر کانگریس میں شمولیت سے قبل اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دینا ہوگا۔ سی پی آئی قائد نے کہا کہ جس طرح عوام نے چندرا بابو نائیڈو کو سبق سکھایا اسی طرح تلنگانہ میں کے سی آر کا حشر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مجلس کو اہم اپوزیشن کا عہدہ ملنے سے عوام کی کوئی بھلائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی حلیف جماعت کس طرح اہم اپوزیشن کا رول ادا کرسکتی ہے۔