انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد

   

گاندھی جی کی یوم پیدائش کے موقع پر ’’ چلو کشمیر‘‘ پروگرام پر انسانی حقوق تنظیموں کا غور

حیدرآباد۔27اگسٹ(سیاست نیوز) ملک کے موجودہ حالات اور کشمیر میں عوام کو جن حالات کا سامنا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ملک کی سرکردہ انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے گاندھی جی کے 150ویں یوم پیدائش پر ’’ چلو کشمیر ‘‘ مارچ منعقد کرنے پر غور کیا جانے لگا ہے تاکہ حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کے خاتمہ کی باضابطہ تحریک کا آغاز کیا جاسکے ۔ حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کے متعلق خصوصی دفعہ 370 کے خاتمہ کے بعد ملک میں بالخصوص کشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان حالات میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف گاندھی جینتی کے موقع پر ملک بھر کی مختلف ریاستو ں سے سرکردہ انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں اور جہدکار کشمیر پہنچتے ہوئے زمینی حقائق سے آگہی حاصل کریں گے۔ ممتاز سماجی جہدکار ڈاکٹر سریش کھیرنار سابق صدر راشٹر سیوادل‘ کنوینر آل انڈیا سیکولر فورم‘ صدر انڈیا فلسطین سالیڈاریٹی فورم(انڈیا) نے بتایا کہ کشمیر کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو پامال ہونے سے بچایاجائے اور آئے دن کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جو کہ بہتر مستقبل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکومت ہند کی جانب سے کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں کے سبب ملک کے کئی گوشوں میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہیں اور عوام میں ناراضگی ہے لیکن اس کے اظہار کا موقع فراہم نہ کئے جانے کی شکایت کی جا رہی ہے اسی لئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر سے 2اکٹوبر کو ’’چلو کشمیر ‘‘ کا انعقاد کیاجائے تاکہ ہندستان کے ہر سنجیدہ شہری کو اس بات کا اندازہ ہوکہ مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں کس طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور کشمیر میں پابندیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اس بات کا احساس ہوکہ ہندستان میں رہنے والوں کے دلوں میں ان کے لئے تڑپ ہے اور وہ اس صورتحال میں تنہاء نہیں ہیں بلکہ ان کے کرب کو ہندستان کے دیگر علاقو ںمیں رہنے والے شہری بھی محسوس کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سریش کھیرنار نے کہا کہ 2اکٹوبر کو گاندھی جینتی کی مناسبت سے تاریخ کا تعین کیا گیا ہے اور آئندہ ایک ماہ کے دوران ملک کی مختلف ریاستوں میں رہنے والے سنجیدہ اور متفکر شہریوںسے رابطہ قائم کرتے ہوئے اس مارچ کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔انہو ںنے واضح کیا کہ چلو کشمیر کے انعقاد کا مقصد پابندیوں کے اور تر مواصلات کے ساتھ زندگی گذارنے والوں سے اظہار یگانگت کرنا اور کشمیر کے زمینی حالات سے آگہی حاصل کرتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنا ہے۔