25 ایکر اراضی پر کامپلکس، 24 حلقوں میں اراضی کی نشاندہی، پہلی تا انٹر میڈیٹ عصری تعلیم، اسکولوں پر 5 ہزار کروڑ کا خرچ
حیدرآباد۔/6 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ریاست میں جاریہ سال 5 ہزار کروڑ سے انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کے تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا۔ انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس پر حکومت کی پالیسی جاری کرکے بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ دسہرہ سے قبل تمام انٹگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ ریاستی وزراء پونم پربھاکر، وینکٹ ریڈی، چیف سکریٹری شانتی کماری اور دیگر کے ہمراہ بھٹی وکرامارکا نے انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کے اغراض و مقاصد پر مبنی پالیسی جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اسکولس کا قیام حکومت کا ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ حکومت نے تلنگانہ کے وسائل کو مستحکم کرکے تعلیم کے شعبہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں میں بارہویں جماعت تک بین الاقوامی معیار کی تعلیم دی جائے گی اور اسکول 20 تا 25 ایکر اراضی پر محیط رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی اقامتی اسکولس فی الوقت کلیان منڈپوں اور کرایہ کی عمارتوں میں کام کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے ذاتی عمارتوں کی تعمیر اور عصری سہولتوں کی فراہمی کے مقصد سے انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کو ہر اسمبلی حلقہ میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 25 اسمبلی حلقہ جات میں اراضیات کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران حکام نے اسکولوں کی عمارت کیلئے اراضیات کی نشاندہی کی ۔ریاست کے 1023 اقامتی اسکولوں میں 662 اسکولس کرایہ کی عمارتوں میں کام کررہے ہیں۔ جاریہ سال حکومت 5 ہزار کروڑ خرچ کرے گی جبکہ سابق حکومت نے اقامتی اسکولوں پر سالانہ محض 73 کروڑ مختص کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق عمارتیں تعمیر کی جائیں گی جس میں اسپورٹس اور ریکریشن کی سہولت موجود رہے گی۔ حکومت ہر اسکول کے تحت ایک تھیٹر کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ سٹیلائیٹ چیانلس کے ذریعہ فلموں کی نمائش کا اہتمام کیا جائے۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ دسہرہ سے قبل 11 اکٹوبر کو انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اقامتی اسکولوں کے معاملہ میں ملک میں ایک مثالی ریاست بن جائے گی اور ہر اسکول کی تعمیر پر 25 تا 26 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ پہلی جماعت تا انٹر میڈیٹ معیاری تعلیم کا انتظام رہے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ سات ماہ میں اسکولوں کی تعمیر مکمل کرلی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے غریب طلبہ کو معیاری تعلیم کے مقصد سے انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کا منصوبہ تیار کیا ہے۔1