انڈین گرے ہارن بل پرندوں کی شہر آمد کا آغاز

   

فبروری سے مئی کے درمیان بسیرا ۔ شائقین فطرت کی دلچسپی
حیدرآباد 25 فروری ( سیاست نیوز ) : انڈین گرے ہارن بل نامی پرندے پورے ملک میں پائے جاتے ہیں ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جوڑے میں پائے جاتے ہیں اور وہ خشک اور اونچے درخت پر اپنا گھونسلہ بناتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر خشک میدانی اور جنگلاتی علاقہ میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ پرندے ہر سال حیدرآباد کی طرف آتے ہیں اور بارش سے قبل یہ دوسرے مقام منتقل ہوجاتے ہیں ۔ یہ پرندے حیدرآباد میں فروری سے مئی کے درمیان ہی نظر آتے ہیں ۔ حیدرآباد میں یہ بڑے تالابوں کے قریب اپنا بسیرا بناتے ہیں ۔ دو ہفتے قبل یہ پرندے گنڈی پیٹ منڈل کے پیرام چیرو کے قریب دیکھے گئے ۔ پرندوں سے محبت کرنے والوں نے ان کی تصاویر کو اپنے کیمروں میں قید کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوئے ۔ حیدرآباد کے مشہور ڈاکٹر سدرشن ان پرندوں کی تصاویر لینے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ پرندے وقار آباد کے علاقہ میں تھے جہاں ڈاکٹر سدرشن نے ان کی تصاویر اتاریں ۔ جب پرندے انڈے دیتے ہیں تو نر پرندے خوراک کی تلاش میں جاتے ہیں اور جب انڈوں سے بچے نکلتے ہیں تو بچے اڑنے کے قابل ہونے پر نر اور مادہ پرندے بچوں کے ساتھ دوسرے مقام منتقل ہوجاتے ہیں ۔ ان پرندوں کا فروری سے مئی کے درمیان میں حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں نظارہ دیکھا جاسکتا ہے ۔۔ ش
تلنگانہ حکومت کی جانب سے حصول اراضی میں تاخیر کی وجہ سے فلائی اوور س کے کام میں تاخیر:کشن ریڈی
حیدرآباد25فروری(یواین آئی) مرکزی وزیرکوئلہ کشن ریڈی نے کہا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے حصول اراضی میں تاخیر کی وجہ سے فلائی اوور س کے کام میں تاخیر ہورہی ہے ۔ کشن ریڈی نے عہدیداروں سے ملاقات کی اور عنبرپیٹ میں فلائی اوور کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر کشن ریڈی نے کہا کہ چادر گھاٹ سے ورنگل تک قومی شاہراہ ہمیشہ ٹریفک کا شکار رہتی ہے اسی لئے انہوں نے وزیر اعظم سے فلائی اوور کی منظوری دینے کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی بی آر ایس حکومت اور موجودہ کانگریس حکومت نے فلائی اوور کی تعمیر میں تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کا حصول ریاستی حکومت کے دائرہ کار میں ہوتاہے اسی لئے ریاستی حکومت آگے آئی اور ان سے درخواست کی کہ وہ دیگر جگہوں پر اراضی حاصل کرکے تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت باقی 6مقامات پر اراضی حاصل کر کے اسے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالے کر دے تو فلائی اوور کا کام تیزی سے مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ عنبرپیٹ فلائی اوور کو اس شیو راتری سے ٹریفک کیلئے کھول دیاجائے گا ۔
اور اس کے نیچے سڑک کی تعمیر اور خوبصورتی کا کام کیا جائے ۔ کشن ریڈی نے بعد میں بتایا کہ فلائی اوور کی تعمیر پر اب تک 338 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔