انگلینڈ میں ’اومی کرون‘ کے باعث سخت تحدیدات

   

لندن : برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے چہارشنبہ کے روز انگلینڈ میں سخت کووڈ 19 پابندیاں عائد کرتے ہوئے لوگوں کو گھر سے کام کرنے، عوامی مقامات پر ماسک پہننے اور ’اومی کرون‘ ویرینٹ کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ویکسین لگوانے کا حکم دیا۔رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کرسمس کے لاک ڈاؤن کے دوران ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنیاسٹاف کے شریک ہونے کے الزامات کی وجہ سے بورس جانسن نے کہا کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہمارے پاس ’پلان بی‘ پر جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا جب کہ ملک میں ویکسین بوسٹر پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔وبائی مرض میں پہلے نافذ کیے گئے مکمل لاک ڈاؤن کے خاتمے سے ابھی ایک طویل فاصلہ طے کیا گیا تھا، نئی پابندیوں کو شہر کے مرکز کے ریسٹورنٹس، کیفے اور دکانوں کے لیے ’بڑا دھچکا‘ قرار دیا گیا ہے جو کرسمس کی شاپنگ کے دوران اپنے مالی معاملات کی بحالی کے لیے بے چین ہیں۔بورس جانسن کی اپنی پارٹی کے بہت سے قانون ساز بھی نئی پابندیوں سے ناراض ہیں، اس خوف سے کہ گزشتہ سال معیشت میں تاریخی 10 فیصد کمی کے بعد ان پابندیوں کے اثرات مرتب ہوں گے۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’اگرچہ تصویر بہتر ہو سکتی ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ صورتحال بہتر ہوجائے گی، مگر ہم جانتے ہیں کہ تیزی سے بڑھنے کا افسوسناک نتیجہ ہسپتالوں میں مریضوں کیداخلے میں بڑے اضافے اور اموات کی صورت میں نکل سکتا ہے۔‘جب بدھ کو پہلی بار یہ خبر سامنے آئی کہ ’پلان بی‘ کے اقدامات نافذ کیے جارہے ہیں تو برطانوی کرنسی پاؤنڈ اسٹرلنگ کی قدر تیزی سے گر گئی تھی۔