اپوزیشن پارٹیوں کے 36 قائدین کی نظام آباد میں کانگریس میں شمولیت

   

مدھو یاشکی گوڑ، محمد علی شبیر اور مہیش گوڑ نے استقبال کیا، اقلیتی قائدین کی کانگریس میں شمولیت حوصلہ افزاء
حیدرآباد۔/28 جنوری، ( سیاست نیوز) نظام آباد میں مجلس، بی آر ایس، سی پی آئی اور سی پی ایم سے تعلق رکھنے والے 36 قائدین نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ، حکومت کے مشیر برائے اقلیت و دیگر طبقات محمد علی شبیر اور سابق رکن پارلیمنٹ مدھو یاشکی گوڑ کی موجودگی میں ان قائدین نے گاندھی بھون میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ مہیش کمار گوڑ، محمد علی شبیر اور مدھو یاشکی گوڑ نے اقلیتی قائدین کا استقبال کیا اور انہیں پارٹی کا کھنڈوا پہنایا۔ مجلس کے سابق ڈپٹی میئر اور سابق ضلع صدر ایم اے فہیم کے علاوہ سابق کارپوریٹرس محمد مصباح الدین، محمد مصعب احمد نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ مجلس اور دیگر پارٹیوں کے جن قائدین نے کانگریس کا کھنڈوا پہنا ان میں کئی مقامی ڈیویژنس کے صدور اور ذمہ دار شامل ہیں۔ اسمبلی چناؤ کے بعد نظام آباد میں کانگریس پارٹی مستحکم ہوئی ہے اور مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والوں کا کانگریس میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ریونت ریڈی کی زیر قیادت عوامی حکومت نے ضمانتوں پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے۔ ریاست میں عوامی حکومت کے نتیجہ میں عوام کو مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کا یقین ہے۔ اسمبلی چناؤ کی طرح لوک سبھا چناؤ میں بھی کانگریس پارٹی بہتر نتائج حاصل کرے گی۔ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کہا کہ نظام آباد ( اربن ) حلقہ میں مختلف پارٹیوں کے 36 قائدین کی کانگریس میں شمولیت سے پارٹی مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اور نئے شامل ہونے والے قائدین کو نظام آباد لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کی کامیابی کیلئے متحدہ جدوجہد کرنی چاہیئے۔ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ اقلیتی قائدین کی کانگریس میں شمولیت حوصلہ افزاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر ابھی بھی خود کو چیف منسٹر کے فرزند کی طرح تصور کرتے ہوئے غرور اور تکبر کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے شکست سے سبق نہیں سیکھا ہے۔1