اڈانی کے اداروں میں غیر قانونی سرمایہ کاری کی جے پی سی جانچ کا مطالبہ

   

مودی حکومت میں کئی مالیاتی اسکام ، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔22۔ اگست (سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر اور اے آئی سی سی قائد سلمان خورشید نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اڈانی کے اداروں میں غیر قانونی سرمایہ کاری کے مسئلہ پر تحقیقات سے گریز کر رہی ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن سلمان خورشید نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کے ادارہ سیبی کے چیرپرسن نے اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے اڈانی کے اداروں میں بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اس معاملہ کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن پارٹیاں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حکومت نے اس مسئلہ پر جواب دینے کے بجائے راہِ فرار اختیار کی۔ سلمان خورشید نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت ابتداء ہی سے اڈانی کے اداروں کی مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی کو حکومت کی جانب سے غیر معمولی مدد کی گئی اور دیگر صنعتی گھرانوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ سلمان خورشید نے سیبی کے صدرنشین کو عہدہ سے فوری برطرف کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بھاری سرمایہ کاری کے ذریعہ سیبی کے چیرپرسن کو 3.71 کروڑ کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ کانگریس زیر قیادت اپوزیشن اتحاد اسکام کے خلاف قانونی اور سیاسی جدوجہد جاری رکھے گا۔ کانگریس کے قومی قائد گردیپ سنگھ سپل نے کہا کہ نریندر مودی حکومت میں کئی مالیاتی اسکام منظر عام پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی کے اداروں میں غیر قانونی طور پر سرمایہ کاری سے ملک کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو اس معاملہ کی جانچ کرنی چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت سی بی آئی اور انفورسمنٹ اداروں کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ 1