اڈانی گروپ سے معاہدات ختم کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں: ریونت ریڈی

   

بی آر ایس دور میں دفاعی شعبہ کے معاہدات کئے گئے، تلنگانہ تحریک کی تاریخ کو مرتب کرنے کا مشورہ
حیدرآباد۔/25ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ تلنگانہ حکومت اڈانی گروپ سے معاہدات کو یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتی کیونکہ اس معاملہ میں قانونی رکاوٹیں قائم ہوں گی۔ حیدرآباد میں کانگریس قائد کے یادو ریڈی کی کتاب کی رسم اجراء انجام دینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسی کے مطابق ڈیفنس مینو فیکچرنگ یونٹس کے شعبہ میں خانگی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی معاشی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی حکومت نے خانگی اداروں کو اہم شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ سابق بی آر ایس دور حکومت میں اڈانی کمپنی سے معاہدات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی شعبہ جات میں معاہدات کے سبب ریاستی حکومت کا رول انتہائی کم ہوتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اڈانی گروپ کے علاوہ کئی دیگر کمپنیاں دفاعی اداروں میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ اڈانی گروپ سے معاہدات کی منسوخی کے مطالبہ پر چیف منسٹر نے کہا کہ دفاعی اداروں میں اڈانی گروپ کی سرمایہ کاری معاہدات سابق حکومت نے کئے تھے اور معاہدات کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اڈانی کا معاملہ ریاستی حکومت کے کنٹرول کے باہر ہے اور سابق نظم و نسق میں ڈیفنس اور ہائی ویز کے پراجکٹ میں معاہدے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی رکاوٹوں کے پیش نظر معاہدات کی منسوخی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا معاملہ صرف اڈانی گروپ تک محدود نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ تحریک کا تفصیل سے احاطہ کیا اور تجویز پیش کی کہ تلنگانہ تحریک کی تفصیلات کو آنے والی نسلوں کیلئے قلمبند کیا جائے۔ تحریک میں یادو ریڈی کے رول کی ستائش کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ سونیا گاندھی کو علحدہ تلنگانہ کے حق میں بل کی پیشکشی کیلئے ترغیب دینے میں جن قائدین نے اہم رول ادا کیا ان میں یادو ریڈی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کی تفصیلات پر مبنی ڈاکومینٹری تیار کی جانی چاہیئے۔ منی پور میں جاری تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ تشدد میں عصری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خانگی کمپنیاں منی پور میں قدرتی معدنیاتی وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے تشدد کو ہوا دے رہی ہیں۔ دو قبائیلی طبقات ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ چیف منسٹر نے چین کی جانب سے ہندوستانی علاقہ میں مداخلت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی مباحث کی ضرورت ہے۔1