’’اگنی پتھ‘‘ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کا سب سے بڑا پرتشدد احتجاج

   

احتجاجی مظاہرین نے 10 گھنٹوں تک ریلوے اسٹیشن کو اپنے قبضہ میں رکھا، 12 کروڑ روپئے کے ریلوے املاک کو نقصان

حیدرآباد ۔ 18 جون (سیاست نیوز) سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں جمعہ کوجو تشدد اور بربادی ہوئی ہے، وہ تاریخ کے یوم سیاہ کے طور پر درج ہوئی ہے۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کا پہلا موقع ہیکہ ’’اگنی پتھ‘‘ کے احتجاجی مظاہرین نے تقریباً 10 گھنٹوں تک ریلوے اسٹیشن کو اپنے قبضہ میں رکھا اور بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ کی تینوں ٹرینوں کے علاوہ دوسری اشیاء کو نقصان پہنچایا، جس سے 12 کروڑ روپئے کے نقصانات ہوئے ہیں اور دن بھر ٹرین کی سرگرمیوں کو بند رکھا گیا۔ مسافرین جان بچانے کیلئے اپنے سازوسامان کو چھوڑ کے دوڑدھوپ کرتے دیکھے گئے۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کا یہ اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی تشدد رہا ہے۔ نظام کے دور میں ملازمین نے تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے (1927) میں احتجاج کیا تھا۔ جاگیردارانہ نظام کے خلاف تحریکیں، کسانوں کا احتجاج، ہندوستان چھوڑدو تحریک (1942) مخالف نظام جدوجہد (1947) مسلح جدوجہد (1948) رضاکاروں کے خلاف احتجاج اور آندھرا میں انضمام کے خلاف تحریک (1952) وشاکھا اسٹیل جدوجہد (1966) مورخین بتاتے ہیں اتنے احتجاجی تحریکات ہوئے ہیں مگر ریلوے اسٹیشن کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ جس طرح نوجوانوں نے اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نقصان پہنچایا۔ ماضی میں صرف ریل روکا گیا اور وشاکھااسٹیل جدوجہد میں صرف پتھراؤ کیا گیا۔ن