ایرانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر، ایک ڈالر کی قدر لاکھوں ریال ہوگئی

,

   

یوروپی نونین کے ایران پر نئی پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر مارکیٹ میں ایرانی ریال پردباؤ

تہران: ایران کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی جس کے باعث اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر لاکھوں ریال تک جا پہنچا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کو ان دنوں یورپی یونین کی جانب سے مزید پابندیوں کے خدشے کا سامنا ہے جس کے باعث ڈالر کے مقابلے میں ایران کی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہیکہ ہفتے کو ایرانی پاسداران انقلاب پر نئی پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر مارکیٹ میں ایرانی ریال پر مزید اثر پڑا اور اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 4 لاکھ 47 ہزار ریال تک جا پہنچا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی یونین ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہی ہے جس میں اس بار ایرانی پاسداران انقلاب کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جب کہ یورپی یونین کے بعض ممبران ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہتے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 4 لاکھ 47 ہزار ریال تک جا پہنچا جب کہ گزشتہ ہفتے ایک ڈالر کی قیمت 4 لاکھ 30 ہزار 500 ریال تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں احتجاج سے لے کر اب تک ریال کی قدر میں 29 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ہفتے کے روز ایرانی سینٹرل بینک کے گورنر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی ریال کا گرنا اس کے خلاف ایک نفسیاتی آپریشن کے نتیجے میں ہے، دشمن ملکوں کی تنظمیں ایران میں عدم استحکام پیدا کررہی ہیں۔ ایران میں یورپی یونین کی پابندیوں کے خدشے اور طویل عرصے سے جاری احتجاج کی وجہ سے معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے اور مقامی کرنسی کی قیمت گر چکی ہے ۔ ایران کو ان دنوں یورپی یونین کی جانب سے مزید پابندیوں کے خدشے کا سامنا ہے ۔ یورپی یونین ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جس میں اس بار ایرانی پاسداران انقلاب کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جبکہ یورپی یونین کے بعض ارکان ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہتے ہیں۔ایران موجودہ دور میں مشکل حالات کا شکار ہے۔ ایک طرف اس کی معیشت متاثر ہورہی ہے تو دوسری طرف پولیس تحویل میں لڑکی کی ہلاکت کے بعد جاری احتجاج کے نتیجہ میں ایرانی حکومت کو سخت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ احتجاج پر قابو پانے کیلئے حکومت نے سخت اقدامات کئے اور خاطیوں کو پھانسی کی سزاء تک دینے کا اعلان کیا جبکہ حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف بھی نہ صرف ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔