واشنگٹن :21 مئی:(ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک گرما گرم ٹیلیفون گفتگو نے سفارتی حلقوں میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ با خبر ذرائع کے مطابق اس گفتگو کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم شدید دباؤ اور بے چینی کی کیفیت میں دکھائی دئے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ ثالثی کرنے والے ممالک ایک ایسے ابتدائی معاہدہ پر کام کر رہے ہیں جس پر ایران اور امریکہ دستخط کر سکتے ہیں ۔ اس مجوزہ معاہدہ کے تحت جنگ کے خاتمے، ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت جیسے اہم معاملات پر تیس دن مذاکرات جاری رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق کال کے دوران دونوں کے درمیان آئندہ حکمت عملی پر اختلافات سامنے آئے۔ واشنگٹن میں موجود اسرائیلی سفارتی حلقوں میں اس گفتگو کے بعد تشویش دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق نتن یاہو جلد واشنگٹن کا دورہ کے خواہش مند ہیں تاکہ امریکی قیادت کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اسرائیلی حکومت ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اب بھی سخت شکوک رکھتی ہے جبکہ بعض حلقے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے حق میں ہیں۔ادھر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو جنگ دوبارہ تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے سفارتی کوششوں کو مزید چند دن دینے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔