نوجوانوں میں انقلابی جذبہ اور حکمراں طبقہ کے مظالم کے خلاف جدوجہد متاثرکن۔’’ہم دیکھیں گے‘‘ کو عالمی سطح پر مقام
حیدرآباد۔9۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) نوجوانوں میں انقلابی جذبہ ابھارنے اور انہیں حکمراں طبقہ کے مظالم کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے آمادہ کرنے والا مواد آج بھی ’اردو‘ زبان کی شاعری ہے اور ’جنتر منتر‘ پر ہونے والے احتجاج ہو یا ’شاہین باغ‘ کا احتجاج ہو ان مظاہروں میں بھی فیض احمد فیض کی شاعری کا کلیدی کردار رہا ہے۔ حکومت ہند نے 2022 میں NCERT کے نصاب سے ’فیض احمد فیض ‘ کو نکال دیا تھا لیکن ا س کے باوجود فیض کی شخصیت اور ان کی شاعری سے نوجوانوں کو متاثر ہونے سے روک نہیں پائی۔ ہندستان میں ’جنتر منتر‘ کے احتجاج اور طلبہ کے جوشو ولولہ پر اب انگریزی محققین اس بات پر تحقیق کرنے لگے ہیں کہ ’فیض احمدفیض‘ کی شاعری نے بغیر کسی لکچر یا خطاب کے کس طرح نوجوانوں کی زندگیوں میں اثرات مرتب کر رہی ہے۔ حکومت ہند نے CBSE کے 10ویں جماعت کے نصاب سے سال 2022کے دوران فیض احمد فیض کے کلام اور ان کی شاعری کو حذف کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب 12ویں اور ڈگری کے طلبہ احتجاج میں شامل ہیں تو اس سے اس بات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ فیض احمد فیض نے جن ذہنوں پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں وہ ذہن اب جاگ چکے ہیں۔ فیض احمد فیض کی شاعری نے خاص طور پر حکمراں طبقہ کے خلاف جدوجہد اور اپنے نظریات کے ذریعہ انسان کو اس کے حقوق کے تحفظ پر جس انداز میں انہوں نے اکسایا ہے وہ انتہائی متاثر کن ہے۔ فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو عالمی سطح پر جو مقام حاصل ہے اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن ہندستان میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تحریک کے دوران نوجوانوں نے اسی نظم کو جس انداز میں پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ بن چکا تھا لیکن ’جنتر منتر‘ پر جس طرح سے فیض کی نظم طلبہ نے پیش کی ہے وہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں اپنی منفرد شناخت رکھتی ہے ساتھ ہی فیض کی نظم کا مصرعہ ’’ہم دیکھیں گے‘‘ جدوجہد کے نعرہ میں تبدیل ہوگیا۔ فیض کی نظم سے اب ہر ہندستان میں موجود ہر حکمراں طبقہ کو سبق حاصل کرنا چاہئے کیونکہ وہ دہلی کا جنتر منتر ہویا تلنگانہ کے شیونور منڈل میں سابق ریاستی وزیر کا گیسٹ ہاؤز اب ہر جگہ عوام جاگ چکے ہیں اور اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہونے لگے ہیں۔ فیض کی نظم کا مصرعہ ’’جب تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے‘‘ ہر جہدکار کی زبان پر ہے اور اب سب دیکھ رہے ہیں کہ ظالم کے خلاف جب انسان اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو وہ مذہب ‘ ذات پات‘ یا رنگ و نسل کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے خلاف ہونے والے ظلم اور اس کی راہ میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے خود کو تیار کرتا ہے ۔3