ایران جنگ ‘ دنیا کی خاموشی

   

پوچھتے ہیں یہ سبھی دوست بنے کیوں دشمن
اِن سوالوں کے جوابات کہاں سے لاؤں
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کا ایک ہفتہ پورا ہوچکا ہے ۔ اس ایک ہفتے میں زبردست تباہی نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کردیا گیا ۔ ان کے علاوہ تقریبا 40 ایرانی کمانڈرس اور رہنما بھی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ایک اسکول پر حملہ کرکے تقریبا 200 معصوم طالبات کو شہید کیا گیا ۔ ایک ہزار سے زائد ایرانی باشندے ان حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریاکہ اور اسرائیل کی جانب سے ظالمانہ کارروائیوںاور وحشتناک بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ جب چاہیں جہاں چاہے بم برسائے جا رہے ہیں۔ ایران بھی اپنی جانب سے اپنی طاقت کے مطابق ان حملوں کا جواب دے رہا ہے اور ممکنہ حد تک ان ممالک کو نقصان پہونچا رہا ہے ۔ ایران نے اپنی طاقت کے مطابق زیادہ ہی نقصان پہونچا دیا ہے تاہم جہاں تک انسانی بنیادوں پر صورتحال کو دیکھنے کا سوال ہے تو اس معاملے میں ایران کو زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ دو ظالم طاقتوں کے آگے سینہ سپر ہوتے ہوئے ایران نے اپنے عزم و حوصلے کا ثبوت دیا ہے ۔ جنگ اپنی جگہ جاری ہے تاہم اس جنگ کے ایک ہفتے کے بعدث بھی دنیا کی اس معاملے میں خاموشی افسوسناک ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے یہ ظالمانہ جنگ ایران پر غیر ضروری طور پر مسلط کردی ہے ۔ ایسے میں انہیں اپنی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل پر دباو ڈالا جانا چاہئے کہ وہ اس جنگ کو روکیں۔ ایران کے ساتھ بات چیت کی جائے ۔ منصفانہ طریقہ کار اختیار کیا جائے ۔ ایران پر کچھ شرائط عائد کی جائیں اور اس کو کچھ مراعات بھی دی جائیں تاکہ صورتحال کا کوئی بہتر حل برآمد ہوسکے ۔ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی ۔ اس حقیقت کو ساری دنیا سمجھتی ہے تاہم مجرمانہ خاموشی اختیار کی جا رہی ہے ۔ لب کشائی سے گریز کیا جا رہا ہے ۔دنیا کو اس معاملے میں اپنی خاموشی کا سلسلہ روکنا چاہئے ۔ کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی سطح پر جنگ بندی کیلئے پہل کرنے کی ضرورت ہے ۔ طویل خاموشی انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہوگی ۔
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لب کشائی سے گریز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جو امریکہ کی ظالمانہ کارروائیوں سے خوف کھارہے ہیں۔ کچھ ممالک اسرائیال کے ساتھ تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن جو کچھ بھی تباہی ایران میں برپا کی جا رہی ہے اس کی پھر ذمہ داری ان خاموشی اختیار کرنے والے اور ظالموں کا ساتھ دینے والے ممالک پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ امریکی کانگریس کے ان ارکان سے سبق لینے کی ضرورت ہے جو جنگ میں بھی اپنی حکومت کے خلاف اظہار خیال کر رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کی کارروائیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ نے ایک غیر ضروری جنگ محض اسرائیل کی خوشنودی کیلئے ایران پر مسلط کردی ہے ۔ امریکی عوام کی اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ نے ایپسٹین فائیلس سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے پاکستان کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کروایا اور دو دن میں دو جنگیں شروع کیں تاکہ ایپسٹین فائیلس سے عوام کی توجہ ہٹ سکے ۔ دنیا بھر میں اہم شخصیتوں کے خلاف جو انکشافات ہو رہے تھے ان سے سب سے زیادہ سیاسی زلزلہ امریکہ ہی میں محسوس ہوسکتا تھا اور اسی کا اثر زائل کرنے کیلئے ٹرمپ نے دنیا پر جنگیں مسلط کردی ہیں۔ امریکی عوام اور سیاسی تجزیہ نگار اس حقیقت کو بیان کرنے سے گریز بھی نہیں کر رہے ہیں ۔ وہ بے خوف اظہار خیال کر رہے ہیں جبکہ دنیا کے با اثر سمجھے جانے والے ممالک امریکہ کے پٹھو بنے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ جیسے کٹھ پتلی ادارہ نے بھی اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ صرف انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے کچھ بیانات دئے جا رہے ہیں۔ برطانیہ نے جنگ میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے تاہم وہ جنگ روکنے کیلئے بھی کچھ نہیں کر رہا ہے ۔ کچھ ممالک اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔کچھ خاموش تائید کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک ایک آواز میں ایران کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوں۔ صیہونی اسرائیل پر لگام کسی جائے ۔ امریکہ پر دباؤ بنایا جائے تاکہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کا خاتمہ ہوسکے اور دنیا کو اس کے انتہائی منفی اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ اس کام میں جتنی تاخیر ہوگی اتنا ہی زیادہ نقصان کے اندیشے ہیں۔
نیپال پارلیمانی انتخابی رجحانات
نیپال میں پارلیمانی انتخابات کیلئے رائے دہی ہوچکی ہے اور ووٹوں کی گنتی چل رہی ہے ۔ جو غالب رجحانات آئے ہیں ان میں ظاہر ہوچکا ہے کہ نیپال کے عوام نے گھسے پٹے اور روایتی سیاستدانوں کا بوریا بستر لپیٹ دیا ہے اور انہیں آرام دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ نوجوانوں کی پسند بالیندر شاہ کی نئی سیاسی پارٹی راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو اقتدار ملتا دکھائی دے رہا ہے ۔ عوام کی اولین پسند بالیندر شاہ بن کر ابھرے ہیں جو نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ نیپال کے عوام نے مسلسل مسائل اور پریشانیوں سے تنگ آ کر احتجاج کیا تھا اور اسی ناراضگی اور غصہ کو انہوں نے اپنے ووٹوں کے ذریعہ بھی ظاہر کردیا ہے ۔ جو رجحانات ہیں وہ واضح کرچکے ہیں روایتی سیاستدان اب گھروں پر آرام کریں گے اور ملک کی ذمہ داریاں نوجوان ہاتھوں میں سونپی جائیں گی ۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو نیپال کیلئے خوش آئند کہی جاسکتی ہے اور اس کے ذریعہ وہاں کے داخلی حالات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ نیپال میں قطعی نتائج کا بہت جلد اعلان ہونا باقی ہے ۔