ایران میں انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی جیل سے رہا

,

   

تہران:ایران کی حکومت نے ایک معروف خاتون سرگرم کارکن نرگس محمدیکو رہا کر دیا ہے۔ وہ 2015 سے جیل میں تھیں۔ ان کی رہائی کے لیے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں کئی سال سے اپنی تحریک چلا رہی تھیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نرگس محمدی کو ناانصافی پر مبنی قید و بند میں رکھا جا رہا تھا۔نرگس محمدی کی عمر 48 سال ہے۔ وہ صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔ انہیں جمعرات کو ایران کے شمال مشرقی شہر زنجان سے رہا کیا گیا۔ رہائی کی اطلاع ان کے شوہر تاخی رحمانی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے دی۔رحمانی اس وقت اپنے دو بچوں کے ساتھ پیرس میں جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔ رحمانی نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ ایران میں موجود ان کے رشتے داروں نے انہیں اطلاع دی ہے کہ نرگس کو جمعرات کی سہ پہر جیل سے رہا کر دیا گیا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی ایک عدالتی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ نرگس محمدی کو، جو دس سال کی قید کاٹ رہی تھیں، رعایت کے ایک عمل کے طور پر رہا کر دیا گیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کے شوہر رحمانی نے بتایا کہ ایران میں ان کے رشتے داروں نے بتایا ہے کہ نرگس کو رہائی سے کچھ دیر پہلے سوتے سے جگا کر بتایا گیا کہ انہیں چھوڑا جا رہا ہے، جس کے کچھ ہی دیر بعد وہ جیل سے باہر آ گئیں۔رحمانی کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ جیل میں ان کی اہلیہ بیمار رہی ہیں اور انہیں صحت کے مسائل لاحق تھے، تاہم وہ ذہنی لحاظ سے ٹھیک ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2018 اور 2019 میں نرگس کی پیچیدہ سرجریز ہوئیں تھیں جس کے بعد سے انہیں پھیپھڑوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری کے مسائل لاحق تھے۔ لیکن اس دوران انہیں زاہدان سے زنجان کی جیل میں بھیج دیا گیا، جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے احتجاج بھی کیا تھا۔