ایران نیوکلئیر معاہدہ کیلئے تیار

   

دریا سے تو معاہدہ طے پاگیا مگر
کشتی کا اعتبار نہیں کررہا ہوں میں
ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کے دوران ایران نے واضح کردیا ہے کہ وہ نیوکلئیر معاہدہ کیلئے تیار ہے اور اگرا س معاہدہ کو یقینی بنانے اگر کچھ سمجھوتے کرنے پڑے تب بھی وہ ایسا کرنے سے گریز نہیں کرے گا بشرطیکہ امریکہ ایران پر عائد تحدیدات کو برخواست کرنے کی سمت پیشرفت سے اتفاق کرے ۔ ایران کا یہ موقف مغربی ممالک اور خاص طور پر امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کی سمت ایک اچھی پہل ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران علاقہ میں کشیدگی یا کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ۔ وہ امن چاہتا ہے اور امن کیلئے وہ سمجھوتے کرنے کو بھی تیار ہے ۔ ایران نے معاشی تحدیات کی برخواستگی کے تعلق سے جو شرط عائد کی ہے وہ اس کا بنیادی حق ہے اور امریکہ اور اس کے حواری ممالک کو اس تعلق سے اتفاق کرتے ہوئے علاقہ کے امن کے تئیں اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ اس معاملے میں صورتحال پر غور کرسکتا ہے تاہم اسرائیل کا دباؤ امریکی موقف اور رد عمل پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ ایسے میں امریکہ اسرائیل کے دباؤ کو تسلیم کئے بغیر صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقہ میں ایک اور جنگ مسلط نہ کی جائے اور اسرائیل کے عزائم کامیاب ہونے نہ پائیں۔ اسرائیل کسی بھی قیمت پر ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا حامی ہے اور وہ اس کیلئے امریکہ کو استعمال کر رہا ہے ۔ امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے اور معاہدہ کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہا ہے ۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ طاقت کا استعمال کرے اور علاقہ میں ایک بار پھر جنگ شروع ہوجائے ۔ جس وقت ایران میں مغرب کے اسپانسر کردہ احتجاجی مظاہرے ہورہے تھے اس وقت بھی اسرائیل نے پوری کوشش کی کہ عوامی تائید کے نام پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے تاہم ایران نے اپنے تدبر کے ذریعہ صورتحال کو قابو میں کیا اور امریکہ نے بھی جنگی یا فوجی کارروائی کرنے سے گریز کیا ۔ اب نیوکلئیر مسئلہ پر اسرائیل امریکہ کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے ۔
ایران کا جہاں تک تعلق ہے تو اس نے حالانکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے معاملے میں سخت گیر موقف اختیار کیا ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور جنگ ہوتی ہے تو سخت جواب دیا جائے گا ۔ تاہم ایران نے نیوکلئیر معاملہ پر اپنے موقف میںنرمی پیدا کرتے ہوئے معاہدہ کیلئے بات چیت کی وکالت کی ہے اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر ضروری ہوجائے تو پھر ایران اس مسئلہ پر کچھ سمجھوتے کرنے بھی تیار ہے ۔ اس سے ایران کے لچکدار موقف کا اظہار ہوتا ہے اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ایران جنگ نہیںچاہتا ۔ وہ امن برقرار رکھناچاہتا ہے ۔ علاقہ میںکشیدگی کو کم کرنے کیلئے اس نے اپنے سنجیدہ ہونے کا ثبوت بھی فراہم کردیا ہے ۔ اب امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کو سمجھے اور جنگ مسلط کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈہ پر عمل کرنے سے گریز کرے ۔ ایران کی سنجیدگی کو ساری دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور امریکہ اور اسرائیل دونوں پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ وہ جنگ کا ایجنڈہ ترک کرتے ہوئے بات چیت کی میز پر آجائیں اور بات چیت کے ذریعہ نیوکلئیر مسئلہ پر ان کے جو بھی شکوک و شبہات ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ ساری دنیا کیلئے جنگ مضر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی اس لئے اس جنگ کو ٹالنے کی حتی المقدور اور ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے ۔ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی اور اس حقیقت کو امریکہ بھی اچھی طرح سمجھتا ہے ۔
امریکہ نے حالیہ عرصہ میں ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی بھی بات کہی تھی تاہم امریکہ کو ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتے ہوئے بات چیت کا راستہ ہی احتیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایران نے معاشی تحدیدات کی برخواستگی کیلئے جو شرط عائد کی ہے اس کو قبول کرتے ہوئے مسئلہ کا پرامن حل دریافت کرنے پر توجہ مرکوز کرناچاہئے ۔ ایران پر طویل عرصہ سے معاشی تحدیدات عائد ہیں اور ان تحدیدات سے ایرانی عوام کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس جانب ساری دنیا کو توجہ کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ بنانا چاہئے تاکہ مشرق وسطی کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جاسکے ۔