تل ابیب : اسرائیل کی سلامتی کابینہ کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ ایران کے میزائل حملوں کا امریکہ کی حمایت سے بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسرائیل کے چینل 12 ٹیلی ویژن پر خبر میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں ایران کے اسرائیل پر گزشتہ دنوں ہونے والے میزائل حملوں کے جواب پر بحث کی گئی۔خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے حملے کا جواب دینے کا فیصلہ امریکی انتظامیہ سے ہم آہنگی کے بعد کیا جائے گا۔اس خبر میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اسرائیل ایران کے اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر ڈینی ڈنون نے کہا کہ ایران کے میزائل حملوں کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔ڈینی ڈنون نے اقوام متحدہ کے جنرل ہیڈکوارٹر میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ حملہ بالکل دفاعی نہیں تھا بلکہ یہ معصوم لوگوں کے خلاف ایک طے شدہ حملہ تھا جو ایرانی نواز سابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کے جواب میں تھا۔اسرائیلی سفیر نے کہا کہ اسرائیل اس طرح کی جارحیت کے خلاف خاموش نہیں رہے گا۔ اسرائیل جوابی کارروائی کرے گا، ہمارا جواب فیصلہ کن ہوگا اور ہاں، یہ درد ناک بھی ہوگا۔ڈینی ڈنون نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی جوابی کارروائی ایران کے برعکس بین الاقوامی قانون کے مکمل طور پر مطابق ہوگی۔