ایران پر جنگ مسلط کردی گئی

   

تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
ایران پر بالآخر جنگ مسلط کری گئی ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ نے اپنے جارحانہ اور ظالمانہ مقاصد کی تکمیل کیلئے ایران پر حملہ کردیا ہے ۔ ویسے بھی کئی دن سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ ایران پر کسی بھی وقت حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے تیاریاںبھی کئی دن سے جاری تھیں۔ ایران نے بھی اپنے طور پر اس حملے سے نمٹنے کیلئے سرگرمی دکھائی تھی تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی طاقت زیادہ ہے تاہم ایران کی جانب سے ظالموں کے آگے نہ جھکتے ہوئے اپنے دفاع کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایک طرح سے پہلے ہی سے ذہن بنالیا تھا کہ ایران کو حملوں کا نشانہ بنانا ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی کرتے ہوئے اپنے مفاات کی تکمیل کرنی ہے ۔ یہ تک کہا جا رہا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تو ایران میں متبادل حکومت کے قیام کا منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ایران کی مذہبی قیادت کو بیدخل کردیا جائے ۔ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی مذہبی قیادت ہی سے مسائل درپیش ہیں اور وہ اسی قیادت کو ختم کرتے ہوئے کچھ کٹھ پتلی حکمرانوں کو تہران میں مسند اقتدار پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ مقاصد بھلے ہی کچھ بھی رہے ہوں اور ان کی تکمیل کس حد تک ہوتی ہو تاہم ایران پر حملہ کردیا گیا ہے اور ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کئی مقامات پر حملے کئے گئے اور میزائیل داغے گئے ہیں جن سے کچھ تباہی کی بھی اطلاعات ہیں اور ایران نے بھی جواب میں اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے میزائیل داغے ہیں۔ اس کے علاوہ بحرین میں بھی امریکی فوجی بیڑے کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ قطر میں اور متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی ٹھکانوں پر ایران کے حملوں کی اطلاع ہے ۔ اس طرح سے یہ واضح ہونے لگا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جو لڑائی شر وع کی گئی ہے وہ ایران تک یا اسرائیل تک محدو نہیں ہے بلکہ یہ جنگ اب سارے مشرق وسطی یا خلیج فارس کی جنگ ہو جائے گی اور کئی ممالک اس میں نہ چاہتے ہوئے بھی شامل ہونگے یا پھر گھسیٹے جائیں گے اور شائد امریکہ اور اسرائیل کے در پردہ مقاصد اور عزائم بھی یہی رہے ہوں۔
اسرائیل سارے علاقہ میں اپنا تسلط چاہتا ہے اور امریکہ اس تسلط کو یقینی بنانے کیلئے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔ امریکہ ایک طرح سے اسرائیل کو سارے مشرق وسطی پر تسلط دلانا چاہتا ہے اور گذشتہ دنوں اسرائیل میں امریکہ کے سفیر نے بھی اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اگر اسرائیل سارے مشرق وسطی پر کنٹرول حاصل کرلیتا ہے تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے ۔ یہی در پردہ مقصد ہوسکتا ہے جس کیلئے اب ایران کے بہانے سے جنگ شروع کردی گئی ہے ۔ ایران کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم جو مقاصد در پردہ ہوسکتے ہیں ان کی تکمیل کیلئے سارے علاقہ کو جنگ میں جھونکنے سے بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے گریز نہیں کیا جائے گا ۔ وہ کسی بھی قیمت پر پر اپنے مفادات اور مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے ۔ اسرائیل پوری جارحیت کے ساتھ اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اپنے توسیعی عزائم کی تکمیل کرنا چاہتا ہے ۔ وہ اب مزید وقت ضائع کرنے کو تیار نہیں ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے تسلط کو سارے علاقہ میں تسلیم کیا جائے یا کم از کم اس کی شروعات ہو جائے ۔ ایران کو اسرائیل نے ہمیشہ ہی اپنے لئے ایک خطرہ سمجھا ہے اور ایران نے ہمیشہ اسرائیل اور امریکہ کو خاطر میں لانے سے گریز کیا ہے ۔ ایسے میں ایران کو فطری مخالف سمجھا گیا تھا اور کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتے ہوئے ایران کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا جسے اب پورا کرلیا گیا ہے ۔ نیوکلئیر مسئلہ پر مذاکرات کا دور چل بھی رہا ہے اور اس دوران حملہ کر بھی دیا گیا ہے ۔ یہ امریکہ کا دوہرا معیار ہے ۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہمیشہ ہی مکر و فریب سے کام لیا گیا ہے اور ایران کے ساتھ بھی نیوکلئیر مسئلہ پر مذاکرات کا ڈھونگ رچا گیا اور اپنی جانب سے جنگ کی تیاریاں پوری شدت کے ساتھ کی گئیں اور پھر اچانک ہی ایران پر حملہ کردیا گیا ہے ۔ ایران اور امریکہ کے جو در پردہ مقاصد اور عزائم ہیں وہ بہت خطرناک ہیں اور ان کو سارے علاقہ کے ممالک کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ امریکی دباؤ یا اسرائیل کی سازشوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایران تک محدود نہیں ہے اور یکے بعد دیگرے تمام ممالک کو نشانہ بنانے سے صیہونی طاقتیں گریز نہیں کریں گی ۔ اس حقیقت کو عرب اور اسلامی ممالک جتنی جلدی سمجھ لیں اتنا ہی ان کیلئے اور سب کیلئے بہتر ہے ۔ اگر اب بھی یہ ممالک امریکہ اور اسرائیل کے پٹھو بنے رہیں گے تو پھر مستقبل میں ان کے وجود کیلئے بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔
پاکستان ۔ افعانستان ٹکراؤ
پاکستان اور افغانستان کے مابین بھی فوجی ٹکراؤ شروع ہوگیا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے کچھ مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کئے گئے اور اس میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا ۔ درجنوں افراد کی اس میں ہلاکت بھی ہوئی ہے ۔ افغانستان نے بھی پاکستان کے اس اقدام پرجوابی کارروائی کی ہے اور اس نے بھی پاکستان میں کچھ مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے فضـائی حملے کئے ہیں۔ اس طرح دونوں پڑوسی ملک جو کبھی اچھے دوست بھی ہوا کرتے تھے اب ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ہیں۔ دونوںملکوں کا ٹکراؤ جنوبی ایشیاء علاقہ کیلئے اچھا نہیں ہوسکتا ۔ ویسے تو دنیا کے کسی بھی خطے میں فوجی ٹکراؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے تاہم جنوبی ایشیاء ہمیشہ سے ایک حساس علاقہ رہا ہے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ افغانستان بتدریج ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے اور ملک میں استحکام کیلئے جدوجہد کر رہا ہے ایسے میں فوجی ٹکراؤ کی وجہ سے جہاںافغانستان کا استحکام متاثر ہوگا وہیں جنوبی ایشاء کا استحکام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اس مسئلہ پر مذاکرات کے ذریعہ صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ کرنی چاہئے ۔