ایس آئی آر : مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے سیاست کے خصوصی ایپ کی لانچنگ

   

ووٹر شناختی کارڈس بنانے پر زور ، عوام کی رہنمائی کے لیے سیاست ہیلپ ڈیسک ، جناب عامر علی خاں کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں اپریل 2026 سے ایس آئی آر کا عمل شروع کیا جانے والا ہے اور یہ ایس آئی آر 2002 کی فہرست رائے دہندگان کی بنیاد پر ہوگا ۔ اس کے لیے حیدرآباد اور اطراف و اکناف میں فیملی میاپنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ ایسے میں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں کے قائم کردہ سیاست ہب فاونڈیشن کی جانب سے جہاں خصوصی مہم شروع کی گئی اس کے ایک حصہ کے طور پر دفتر سیاست میں عوام کی رہنمائی کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا وہیں عوام کی سہولت کے لیے ایک خصوصی ایپ بھی تیار کیا گیا ہے ۔ جس کے ذریعہ مکان نمبر اور رائے دہندوں کے ناموں کی مدد سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا 2002 کی فہرست رائے دہندگان یا 2002 کی ایس آئی آر میں ان کے نام موجود ہیں یا نہیں ۔ سیاست ہب فاونڈیشن کی اس مہم اور خصوصی ایپ کی لانچنگ کے ضمن میں دفتر روزنامہ سیاست کے آڈیٹوریم میں ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر جناب عامر علی خاں نے بتایا کہ superengineer.ai نے یہ ایپ تیار کیا ہے اور اس کی تیاری میں سید مصطفی ہیڈ آف اے آئی ، خواجہ حسن سلمان ڈیولپر ، عبدالرحمن جانو سی ای او سپر انجینئر ڈاٹ اے آئی ، عبدالحلیم بزنس ہیڈ ، آنندریڈی سی ٹی او کا اہم کردار رہا ۔ پریس کانفرنس میں جناب عامر علی خاں کے ساتھ سپر انجینئر ڈاٹ اے آئی کے مذکورہ ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ تلنگانہ می سیوا فیڈریشن کے جنرل سکریٹری محمد عبدالمعید اور محمد اعجاز خاں بھی موجود تھے ۔ جناب عامر علی خاں نے پر زور انداز میں کہا کہ 2025 کے اواخر اور 2026 کے اوائل میں جن ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کیا گیا وہاں زائد از 6.5 کروڑ رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردئیے گئے ۔ جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اس سلسلہ میں جناب عامر علی خاں نے یاد دلایا کہ بہار میں ایس آئی آر کے ذریعہ 65 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ۔ مغربی بنگال میں 63.66 لاکھ رائے دہندوں کے نام نکالدئیے گئے جب کہ اس بات کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ مزید 60 لاکھ رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری طرف اترپردیش میں 2.89 کروڑ ، تاملناڈو میں 74 لاکھ ، گجرات میں 77 لاکھ ، مدھیہ پردیش میں 34.25 لاکھ ، راجستھان میں 31.36 لاکھ ، کیرالا میں 53229 ، گوا میں 1.4 لاکھ ، اور چھتیس گڑھ میں 27 لاکھ سے زائد رائے دہندوں کے نام حذف کئے گئے ۔ جناب عامر علی خاں نے عوام بالخصوص مسلمانوں پر زور دیا کہ ان کے پاس اگر ووٹر آئی ڈی کارڈ نہ ہوں تو فارم 6 آن لائن داخل کرتے ہوئے ووٹر شناختی کارڈ حاصل کرلیں ۔ اس کی بنیاد پر ہی آپ کو Enumeration فارم دیا جائے گا اور آپ کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ جناب عامر علی خاں نے یہ بھی کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ گریٹر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ساری ریاست تلنگانہ کے ہر مسلم مرد و خواتین اور 18 سال سے زائد عمر کے لڑکے لڑکیوں کے پاس ووٹر شناختی کارڈ ہو اور وہ انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں ۔ اس موقع پر جناب محمد عبدالمعید جنرل سکریٹری تلنگانہ می سیوا فیڈریشن نے بھی خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کسی طرح تعصب و جانبداری کے ذریعہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے ووٹ کو ایک بہت بڑا جمہوری ہتھیار قرار دیا اور ایس آئی آر کے بارے میں لوگوں میں پائی جانے والی الجھنوں پریشانیوں اور سوالات پر روشنی ڈالی ۔ جناب عامر علی خاں نے میڈیا کو بتایا کہ ایس آئی آر کے ضمن میں عوام کی رہنمائی کے لیے سیاست ہیلپ ڈیسک روزانہ صبح 11 تا شام 4 بجے خدمات انجام دے رہا ہے ۔ عوام اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ اس موقع پر جناب احمد طارق ، ڈائرکٹر سیاست ہب فاونڈیشن جناب زاہد فاروقی ، محمد ریاض احمد اور سید خالد محی الدین اسد بھی موجود تھے ۔۔