ایس سی زمرہ بندی بِل کو تلنگانہ اسمبلی میں تمام سیاسی پارٹیوں کی تائید

,

   

کانگریس سماجی انصاف کے عہد کی پابند، ایس سی ذیلی طبقات کو تعلیم اور روزگار میں مواقع، ریاستی وزیر دامودر راج نرسمہا کا دعویٰ

حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے آج قانون ساز اسمبلی میں ایس سی زمرہ بندی سے متعلق بِل پیش کیا جسے تمام سیاسی پارٹیوں کی تائید حاصل ہوئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے بِل متعارف کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ سماجی انصاف کی فراہمی کے لئے کانگریس نے ایس سی طبقات کے دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کی ہے۔ اُنھوں نے ایس سی زمرہ بندی کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا اور کہاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے ایس سی زمرہ بندی پر من و عن عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ طویل عرصہ سے ایس سی طبقات کی جدوجہد کو کانگریس حکومت نے حقیقت میں تبدیل کیا ہے۔ ایس سی زمرہ بندی قانون کے تحت ایس سی ذیلی طبقات کو 3 علیحدہ گروپس میں تقسیم کرتے ہوئے اُن کے لئے تحفظات کا تعین کیا گیا۔ 15، 18 اور 26 ذیلی طبقات کے گروپس تشکیل دیئے گئے اور 15 فیصد تحفظات کو تینوں گروپس میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا گیا ہے۔ دامودر راج نرسمہا نے ایس سی طبقہ کو دستوری حقوق کے بارے میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور بابو جگجیون رام کی جدوجہد کا حوالہ دیا اور کہاکہ 1930 ء کے دہے میں ایس سی طبقہ کی علیحدہ شناخت قبول کی گئی جبکہ آزادی کے بعد دستوری حقوق فراہم کئے گئے ۔ کانگریس حکومت ہر سال 4 فروری کو یوم سماجی انصاف کے طور پر منانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ اِسی دن حکومت نے بی سی اور ایس سی طبقات کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔ دامودر راج نرسمہا نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے اندرون 6 ماہ ایس سی زمرہ بندی کو قانونی شکل دیتے ہوئے ریونت ریڈی حکومت نے تاریخ رقم کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کابینی سب کمیٹی اتم کمار ریڈی کی قیادت میں تشکیل دی گئی۔ اس کے علاوہ جسٹس شمیم اختر کی قیادت میں ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کمیشن نے 8693 نمائندگیاں وصول کیں اور حکومت کو 199 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی۔ کابینہ نے جسٹس شمیم اختر کمیشن کی رپورٹ کو من و عن قبول کرتے ہوئے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ دامودر راج نرسمہا نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں ایس سی طبقات نے زمرہ بندی کے لئے طویل جدوجہد کی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ زمرہ بندی کے نتیجہ میں ایس سی کے ذیلی طبقات کو تعلیم اور روزگار میں مناسب حصہ داری حاصل ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کی ہے اور صرف کانگریس حکومتوں کے دور میں کمزور طبقات کے حق میں فیصلے کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ شمیم اختر کمیشن کی سفارشات کے مطابق حکومت نے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے بل کی تائید پر تمام سیاسی پارٹیوں سے اظہار تشکر کیا اور کہاکہ ریونت ریڈی حکومت نے بی سی طبقہ کے لئے 42 فیصد تحفظات کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ بِل پر مباحث میں کانگریس کے اے لکشمن، کے سری ہری، جی ویویک، سی پی آئی رکن سامبا سیوا راؤ اور مجلس کے ماجد حسین نے حصہ لیا۔ 1