Tuesday , October 22 2019

این ڈی ٹی وی کے بانیان کے خلاف سی بی ائی نے نیا مقدمہ درج کیا‘ چیانل نے کاروائی کو ”مضحکہ خیز“ قراردیا۔

ایف ائی آر میں دعوی کیاگیا ہے کہ ٹی وی چیانل نے 2004اور2010کے درمیان جورقم اکٹھا کی ہے وہ ”وہ ایک بدنام لین دین کی ایک جال کے ذریعہ نامعلوم سرکاری عہدیدیروں کے پیسے کو لانے میں اعتراض ہے“

نئی دہلی۔سنٹرل بیور و آف انوسٹی گیشن (سی بی ائی) نے این ڈی ٹڈی وی کے بانیاں پرانو رائے اور رادھیکارائے کے علاوہ چیانل کے سابق سی ای او وکرم چندرا کے خلاف ”مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی“ ایک تازہ کیس درج کیاہے۔

مذکورہ ایف ائی آر دو دن قبل درج کی گئی ہے جس میں دعوی کیاگیا ہے کہ ٹی وی چیانل نے 2004اور2010کے درمیان جورقم اکٹھا کی ہے وہ ”وہ ایک بدنام لین دین کی ایک جال کے ذریعہ نامعلوم سرکاری عہدیدیروں کے پیسے کو لانے میں اعتراض ہے“۔

سی بی ائی کی ایف ائی آر میں کہاگیا ہے کہ ”سال 2004مئی سے 2010مئی کے وقت کے دوران ایم ایس این ڈی ٹی وی لمیٹیڈ نے دنیا بھر میں 32ماتحت ادارے قائم کئے زیادہ تر ٹیکس کی پناہ لینے والے ممالک جیسے ہالینڈ‘ یوکے‘ دوبئی‘ ملیشیاء‘ موریشیس وغیر ہ۔ان میں سے زیادہ تر کمپنیوں کا کوئی کارباری لین دین نہیں ہوا اور ان کا مقصد سے صرف بیرونی ممالک سے فنڈس حاصل کرنے کی مالی لین دین تھا“۔

اس میں مزیدکہاگیا کہ”مبینہ طور پر یہ لین دین غیر قانونی لین دین ہے اور اس کی سرمایہ کاری این ڈی ٹی وی لمیٹڈ کے ذریعہ نامعلوم سرکاری عہدیداروں نے کی ہے‘ او ربعد میں مختلف لین دین کے طریقوں سے ہندوستان واپس لانے کاکام کیاگیاہے۔

کاروائی نامعلوم بدعنوان سرکاری ملازمین کی این ڈی وی کے ذریعہ سرمایہ کاری پر کاروائی کی گئی ہے“۔

تاہم اس کیس میں کسی بھی سرکاری ملازم کا نام نہیں لیاگیاہے اور کیوں مانا جارہا ہے کہ مذکورہ سرمایہ کاری ”غداری“ پیسوں سے کی گئی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی نے اس بات کا بھی دعوی کیاہے کہ ایک لندن نژاد این ڈی ٹی وی پروموٹر کمپنی جس کا نام نٹ ورک پی ایل سی (این این پی ایل سی) نے

غیرملکی سرمایہ کاری پروموشن بورڈ(ایف ائی پی بی) سے 160ملین ڈالر کی قیمت کی رقم سرمایہ کاری کے لئے حاصل کی ہے جو چیانل کے لئے ہے او راس سے ایف ڈی ای اصولوں کی خلاف وزری ہوئی ہے۔

این ڈی ٹی وی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ”ایجنسی کو بدعنوانی میں کوئی ایک شواہد نہیں ملے“ اور مذکورہ بانی برائے ادارہ نے ”تمام معاملات کی جانچ میں مکمل تعاون کیاہے“

Leave a Reply

Top Stories

TOPPOPULARRECENT